(لاہور نیوز) لاہور سمیت پنجاب بھر میں گردوں کی دائمی بیماریوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث ہزاروں مریض ڈائیلاسز کروانے پر مجبور ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں میں ڈائیلاسز مشینوں اور نشستوں کی محدود دستیابی کے باعث مریضوں کو طویل انتظار اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب ڈائیلاسز پروگرام کے تحت گردوں کے مریض نجی ہسپتالوں میں بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اس پروگرام کے تحت 41 ہزار 880 مریض رجسٹرڈ ہیں، جبکہ پروگرام کے آغاز سے اب تک 18 لاکھ 24 ہزار سے زائد ڈائیلاسز سیشنز فراہم کیے جا چکے ہیں۔
ڈائیلاسز پروگرام کے لیے 8 ارب 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم اخراجات 9 ارب 55 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ مریضوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پروگرام کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ گردوں کے مریضوں کو علاج کی بہتر اور بروقت سہولیات فراہم کرنا ترجیحات میں شامل ہے۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے مطابق کسی بھی مریض کو مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ خصوصی سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے نجی ہسپتالوں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے، جبکہ ڈائیلاسز مراکز کی استعداد کار بڑھانے اور نئی مشینوں کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
