اپ ڈیٹس
  • 239.00 انڈے فی درجن
  • 288.00 زندہ مرغی
  • 417.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.07 قیمت فروخت : 41.14
  • یورو قیمت خرید: 323.04 قیمت فروخت : 323.62
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 373.63 قیمت فروخت : 374.31
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.15 قیمت فروخت : 74.28
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 463200 دس گرام : 397100
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 424597 دس گرام : 364006
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7654 دس گرام : 6569
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
پنجاب گورنمنٹ

پنجاب: آئندہ مالی سال میں کاشتکاروں کو 20 ہزار گرین ٹریکٹر دینے کی ہدایت

04 Jun 2026
04 Jun 2026

(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب کی زرعی شعبے میں اصلاحات اور کسان دوست پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، جس کے تحت پنجاب جدید زرعی میکانائزیشن کے نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔

گرین ٹریکٹرز، ہائی ٹیک کمبائنڈ ہارویسٹرز اور سپر سیڈرز کی فراہمی سے صوبے میں جدید کاشتکاری کو فروغ مل رہا ہے جبکہ کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت 9500 ہائی پاور ٹریکٹرز پر 10 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ 50 سے 65 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹرز کاشتکاروں کو 5 لاکھ روپے سبسڈی کے ساتھ فراہم کئے جا رہے ہیں۔

مریم نوازشریف نے اگلے مالی سال میں کاشتکاروں کو 20 ہزار گرین ٹریکٹردینے کی ہدایت کی ہے۔

نئے مالی سال میں ہائی ہارس پاور ٹریکٹرز پر 15 لاکھ روپے جبکہ 50 سے 65 ہارس پاور کے ٹریکٹرز پر ساڑھے 7 لاکھ روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کو نمایاں مالی سہولت حاصل ہوگی۔

پنجاب میں پہلی مرتبہ 12 اقسام کی جدید زرعی مشینری کی خریداری کیلئے 3 کروڑ روپے تک بلاسود قرضوں کی سکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے، اس سکیم کے تحت کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ زرعی آلات خریدنے کیلئے آسان شرائط پر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کاشتکاروں کو بلاسود قرضوں کے ذریعے تقریباً 200 ہائی ٹیک کمبائنڈ ہارویسٹرز فراہم کیے جا چکے ہیں، گندم کی فصل کی کٹائی کے لیے بھی پہلی مرتبہ 50 جدید کمبائنڈ ہارویسٹرز استعمال کیے گئے، جس سے فصل کی بروقت اور مؤثر کٹائی ممکن ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور فصلوں کی باقیات کو جلانے کے رجحان میں کمی لانے کیلئے پنجاب حکومت نے چاول کے کاشتکاروں میں 5 ہزار سپر سیڈرز تقسیم کیے، پہلی مرتبہ سپر سیڈر ٹیکنالوجی کے ذریعے 14 لاکھ ایکڑ رقبے پر چاول کی کاشت مکمل کی گئی، جس کے مثبت ماحولیاتی اور زرعی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سپر سیڈر سکیم کے دوسرے مرحلے میں مزید 5 ہزار سپر سیڈرز فراہم کرنے کی منظوری بھی دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور کاشتکاروں کو جدت کی راہ پر گامزن کرنا ان کا عزم ہے، زرعی میکانائزیشن سے نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سپر سیڈر کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے اور جدید ترین زرعی مشینری کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، حکومت پنجاب چھوٹے کاشتکاروں کیلئے جدید زرعی مشینری کرائے پر حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ محدود وسائل رکھنے والے کسان بھی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے