(لاہور نیوز) پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ روٹ پرمٹ سسٹم کو انشورنس ریپوزٹری کے ساتھ انٹیگریٹ کر دیا گیا۔
دونوں ڈیجیٹل سسٹمز کی انٹیگریشن ایس ای سی پی میں باضابطہ طور پر لانچ کردیے گئے، پنجاب کا پبلک ٹرانسپورٹ روٹ پرمٹ سسٹم مکمل طور پر ڈیجیٹلائز ہو گیا۔
پنجاب کا روٹ پرمٹ سسٹم ایس ای سی پی کی انشورنس ریپوزٹری سے منسلک کر دیا گیا، پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی تھرڈ پارٹی انشورنس کی ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہے، پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ روٹ پرمٹ کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی قرار دی گئی۔
روٹ پرمٹ کے اجرا اور تجدید کو تھرڈ پارٹی انشورنس سے مشروط کر دیا گیا، ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ تھرڈ پارٹی انشورنس مسافروں، ڈرائیورز اور حادثات سے متاثرہ افراد کو مالی تحفظ فراہم کرے گی، انشورنس ریپوزٹری میں تقریباً 10 لاکھ گاڑیوں کا ڈیٹا موجود ہے۔
ملک میں موجود گاڑیوں کے مقابلے میں انشورنس کوریج اب بھی محدود ہے، انشورنس کوریج بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں، وفاقی سطح پر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ کے لیے قانون میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں، تھرڈ پارٹی انشورنس نو فالٹ سسٹم کی بنیاد پر ملے گی۔
تھرڈ پارٹی انشورنس سے حادثات کی صورت میں بروقت معاوضہ یقینی بنایا جا سکے گا۔
