(لاہور نیوز) پنجاب میں جاری مبینہ پولیس مقابلوں کے خلاف صوبائی حکومت اور پولیس حکام کو باضابطہ قانونی نوٹس ارسال کر دیا گیا ہے، جس میں حالیہ ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
یہ نوٹس جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کے سربراہ اظہر صدیق کی جانب سے بھجوایا گیا۔ نوٹس کے متن کے مطابق اپریل 2025 سے اب تک 900 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔
نوٹس میں حوالہ دیا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ میں 670 پولیس مقابلوں کا انکشاف کیا گیا، جبکہ فیصل آباد، لاہور اور شیخوپورہ میں ایسے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حقِ معلومات قانون کے تحت تمام پولیس مقابلوں کی تصدیق شدہ تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ساتھ ہی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی قانونی حیثیت، اس کے قیام، طریقہ کار اور نگرانی کے نظام سے متعلق مکمل معلومات بھی جاری کی جائیں۔
نوٹس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ مختلف پولیس مقابلوں کی ایف آئی آرز کا متن ایک جیسا کیوں ہے، جو شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ مزید استفسار کیا گیا ہے کہ آیا ملزمان مبینہ طور پر ہلاکت سے قبل ہی تمام اعترافات کر لیتے ہیں۔
مزید برآں، ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022 پر عملدرآمد کی تفصیلات فراہم کرنے، ماورائے عدالت قتل کے واقعات روکنے اور ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مبینہ جعلی مقابلوں کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل ٹریبونل کے قیام کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر 10 روز میں تسلی بخش جواب موصول نہ ہوا تو معاملہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرکے اٹھایا جائے گا۔
