حکومت کا بعد از سیلاب 2025 جامع جائزے کا آغاز، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ڈیٹا طلب
(لاہور نیوز) حکومتِ پاکستان نے پوسٹ 2025 فلڈز پر جامع اسیسمنٹ کا آغاز کر دیا، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ڈیٹا طلب کر لیا گیا۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت فلڈ لاسز، ریکوری اور ریزیلینس روڈمیپ تیار ہو گا، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے 14 اضلاع سے تفصیلی ڈیٹا طلب کیا گیا، بہاولنگر، بہاولپور، خانیوال، ملتان، نارووال، اوکاڑہ، ساہیوال، سیالکوٹ شامل ہیں جبکہ بونیر، شانگلہ اور سوات سے بھی نقصانات کی رپورٹ مانگ لی گئی۔
وفاقی حکومت کو جامع قدر پیمائی کیلئے ہاؤسنگ، ایجوکیشن، ہیلتھ، ایگریکلچر اور لائیو سٹاک کا مکمل ڈیٹا درکار ہے، تباہ شدہ گھروں، سکولوں اور سرکاری عمارتوں کا تخمینہ لگایا جائے گا۔
وفاقی حکومت کے جامع تخمینے و تجزیے میں 2010، 2011، 2014 اور 2022 کے سیلابی تجربات بھی شامل کئے جائیں گے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ پالیسی میں خامیوں اور خلا کی نشاندہی ہو گی، موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں رِسک انفارمڈ پلاننگ پر زور دیا گیا ہے۔
قدر پیمائی کے عمل میں عالمی ادارے ورلڈ بینک، اے ڈی بی اور یو این ڈی پی بھی شراکت دار ہو گی، ابتدائی رپورٹ مارچ کے وسط تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، فائنل رپورٹ اپریل کے اختتام تک متوقع ہے۔
سیلاب کے نقصانات پر مبنی جائزے میں زرعی نقصانات، فصلوں کی پیداوار اور مارکیٹ ریٹ کا موازنہ ہو گا، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی ری کنسٹرکشن لاگت کا تخمینہ لگے گا، ریکوری کیلئے مالی وسائل کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
صوبائی حکومتوں کو فوری اور درست ڈیٹا فراہمی کی ہدایت کی گئی ہے، آئندہ مون سون سے پہلے رسک ریڈکشن اقدامات پر زور دیا گیا ہے، قومی سطح پر کلائمیٹ ایڈاپٹیشن پالیسی کو مزید مؤثر بنانے کی تیاری بھی ہو سکے گی، سیلابی نقصانات کی بنیاد پر مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی ہو گی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیزاسٹر رسپانس کے بجائے پیشگی تیاری پر فوکس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، متاثرہ اضلاع میں کیس سٹڈیز بھی رپورٹ کا حصہ ہوں گی، ڈیٹا کی بنیاد پر بین الاقوامی معاونت کے حصول کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
