(لاہور نیوز) آئی جی پنجاب پولیس عبدالکریم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں رمضان المبارک کے سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لے کر صوبہ بھر کے لیے جامع سکیورٹی پلان کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کی 32 ہزار سے زائد مساجد، 2 ہزار سے زائد امام بارگاہوں اور 500 سے زائد اقلیتی عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران مجموعی طور پر 83 ہزار سے زائد پولیس افسران، اہلکار اور کمیونٹی رضاکار سکیورٹی فرائض انجام دیں گے، جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 18 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے۔ سکیورٹی ڈیوٹی پر 238 ایس پیز، 989 ڈی ایس پیز، 2862 انسپکٹرز، 4787 سب انسپکٹرز، 6844 ہیڈ کانسٹیبلز، 55 ہزار 843 کانسٹیبلز اور 4 ہزار سے زائد لیڈی کانسٹیبلز مامور ہوں گی۔
آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ تراویح، افطار اور سحری کے اوقات میں مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کے اطراف پٹرولنگ بڑھائی جائے۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں خواتین کی حفاظت کے لیے لیڈی پولیس اہلکاروں پر مشتمل خصوصی پٹرولنگ سکواڈ تعینات کیا جائے گا تاکہ ہراسگی کے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے رمضان کارڈ پروگرام کے لیے قائم کیمپ سائٹس پر فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے اور عوام سے غیر قانونی رقم وصول کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن لینے کا حکم دیا گیا۔
مزید برآں رمضان اور سہولت بازاروں، خصوصی دسترخوانوں، لاری اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے، جبکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سرچ، سویپ اور کومبنگ آپریشنز جاری رہیں گے۔ سکیورٹی انتظامات کی نگرانی پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کے ذریعے کی جائے گی۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز، سی سی پی او لاہور، آر پی اوز اور ڈی پی اوز شریک ہوئے جبکہ بعض افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ آئی جی پنجاب نے افسران کو فیلڈ میں موجود رہ کر خود سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اور علمائے کرام سے رمضان المبارک میں بین المسالک ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کی اپیل کی۔
