(لاہور نیوز) چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے رائے ونڈ پہنچ کر سالانہ تبلیغی اجتماع کے سلسلے میں کیے گئے ٹریفک انتظامات کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر انہوں نے مختلف ڈائیورشن پوائنٹس، پارکنگ مقامات اور متبادل راستوں کا معائنہ کیا جبکہ بہتر کوآرڈینیشن کے لیے موٹروے پولیس اور نیشنل ہائی وے پولیس کے افسران سے بھی ملاقات کی۔
ڈی ایس پی ٹریفک صدر ڈویژن فرخ شاہ نے سی ٹی او لاہور کو رائے ونڈ سے ملحقہ سڑکوں اور ٹریفک انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق رائے ونڈ اجتماع کا پہلا مرحلہ 5 سے 8 نومبر جبکہ دوسرا مرحلہ 12 سے 15 نومبر تک جاری رہے گا۔ دونوں مراحل کی اختتامی دعائیں بالترتیب 8 اور 15 نومبر کو ہوں گی۔
اجتماع کے شرکاء کی آمدورفت کے لیے لاہور رائیونڈ روڈ، سندر روڈ اور مانگا روڈ سمیت سات داخلی راستے مقرر کیے گئے ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے 10 مقامات پر ڈائیورشن پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔
شرکاء کی گاڑیوں کے لیے مختلف مقامات پر پارکنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جہاں 2 ہزار 800 بڑی گاڑیوں، 5 ہزار 400 کاروں اور 10 ہزار موٹر سائیکلوں کی پارکنگ کی گنجائش مختص کی گئی ہے۔
سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق ٹریفک انتظامات کے لیے مجموعی طور پر 1103 افسران و اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں 7 ڈی ایس پیز، 203 انسپکٹرز و سینئر ٹریفک وارڈنز اور 866 ٹریفک وارڈنز و ٹریفک اسسٹنٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 15 لفٹرز اور 9 بریک ڈاؤن گاڑیاں بھی تعینات ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ اجتماع کے دوران ٹریفک کی روانی، شہریوں کی سہولت اور شرکاء کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا۔ شہریوں کو ٹریفک کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھنے کے لیے راستہ ایف ایم، راستہ ایپ اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ جی ٹی روڈ اور گوجرانوالہ سے آنے والے شرکاء کالا شاہ کاکو انٹرچینج کے ذریعے موٹروے سے رائے ونڈ پہنچیں گے، جبکہ فیصل آباد اور شیخوپورہ سے آنے والے شرکاء فیض پور انٹرچینج کے ذریعے موٹروے استعمال کریں گے۔ اوکاڑہ سے آنے والے شرکاء کو این ایف سی انٹرچینج، رنگ روڈ اور رائے روڈ کے راستے رائے ونڈ بھجوایا جائے گا۔
