قرآن و سنہ موومنٹ کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس، ملکی سلامتی اور اسلامی اقدار بارے اہم فیصلے
(زین العابدین) قرآن و سنہ موومنٹ کی مرکزی شوریٰ کا اہم اجلاس مرکز قرآن و سنہ لارنس روڈ، لاہور میں چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس سے ڈاکٹر حمزہ مدنی، سیف الرحمٰن بٹ، قیم الٰہی ظہیر، ڈاکٹر شفیق الرحمٰن زاہد، مولانا اختر محمدی اور دیگر مرکزی قائدین نے خطاب کیا، جبکہ ملک بھر سے پانچ سو سے زائد اراکینِ شوریٰ نے شرکت کی۔
مرکزی شوریٰ نے ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے قرآن و سنت کی بالادستی اور آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی و دستوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ قراردادِ مقاصد میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے اور آئینِ پاکستان ریاست کو قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا پابند بناتا ہے۔ اجلاس نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ قرآن و سنہ موومنٹ ملک کی تمام دینی جماعتوں کے ساتھ تعاون، مشاورت اور ہم آہنگی کے ذریعے اسلامی اقدار، قومی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے اپنی آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
اجلاس میں مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ صحابۂ کرامؓ کا احترام ہر مسلمان کا دینی فریضہ اور قومی ضرورت ہے۔ مرکزی شوریٰ نے مطالبہ کیا کہ صحابۂ کرامؓ کی تنقیص، توہین یا مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ اتحادِ امت اور امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے والے رجحانات کی حوصلہ شکنی ہو۔
اجلاس نے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں، بالخصوص اہلِ فلسطین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی۔ شوریٰ نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے جان و مال، عزت و وقار اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے مؤثر اور عملی اقدامات کئے جائیں۔

مرکزی شوریٰ نے خواتین کو ہراساں کرنے، کم سن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، تشدد اور دیگر اخلاقی جرائم میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو شفاف اور فوری عدالتی کارروائی کے بعد قانون کے مطابق سخت اور عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ معاشرے میں انصاف، امن اور تحفظ کا احساس مضبوط ہو۔
اجلاس میں ملکی معیشت اور توانائی کے بحران پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مرکزی شوریٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی اور صنعتی استحکام کیلئے توانائی کے بحران پر قابو پانا ناگزیر ہے۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی، شمسی توانائی اور ہوا جیسے قدرتی اور قابلِ تجدید ذرائع سے توانائی پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو، توانائی کی لاگت میں کمی آئے اور ملک توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب بڑھ سکے۔
مرکزی شوریٰ نے تنظیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا اور ملک بھر میں تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال اور مضبوط بنانے، ہر ضلع میں تنظیمی نیٹ ورک کی تکمیل، نوجوانوں، خواتین، علماء، وکلاء، اساتذہ، تاجروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو تنظیم کے ساتھ منظم کرنے اور دعوتی و اصلاحی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے حوالے سے متعدد اہم فیصلے کئے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ قرآن و سنہ موومنٹ آئندہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی، اس مقصد کیلئے دینی و نظریاتی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ ملک بھر سے اہل، دیانت دار، باصلاحیت اور نظریاتی امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے تاکہ جمہوری اور آئینی ذرائع سے پاکستان میں عدل، دیانت، شفافیت، اسلامی اقدار اور قرآن و سنت کی بالادستی کے قیام کی جدوجہد کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
