(مدثر علی رانا) عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتوں اور رسد کی مانیٹرنگ کیلئے 19 رکنی کمیٹی قائم کر دی۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، دستیابی اور سٹاک پوزیشن کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے گی اور اپنی رپورٹ براہِ راست وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کمیٹی کے کنوینئر ہوں گے، جبکہ وفاقی وزرا برائے پٹرولیم و توانائی، وزیر مملکت، گورنر سٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
کمیٹی میں توانائی شعبے کے اہم اداروں کے سربراہان بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، پاک عرب ریفائنری کمپنی (پارکو)، سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
علاوہ ازیں انٹیلی جنس اداروں آئی بی اور آئی ایس آئی کے نمائندے بھی کمیٹی میں شامل کئے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
وزارت خزانہ کے مطابق کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنسز بھی جاری کر دیئے گئے ہیں، کمیٹی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے معاشی اثرات کا جائزہ لے کر قلیل اور درمیانی مدتی تجاویز پیش کرے گی، اس کے علاوہ اگر رسد میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس سے نمٹنے کیلئے حکمتِ عملی بھی مرتب کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بحران کی صورت میں ممکنہ مالی اثرات کا تفصیلی تجزیہ بھی پیش کیا جائے گا، ضرورت پڑنے پر کمیٹی کے ارکان کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے، پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمیٹی کے اجلاسوں کے انعقاد اور ضروری معلومات کی فراہمی میں مکمل تعاون یقینی بنائے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی کی صورتحال کے پیش نظر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانا ہے، تاکہ عوام کو ممکنہ بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔
