اپ ڈیٹس
  • 267.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 534.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.43 قیمت فروخت : 41.50
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 276.80 قیمت فروخت : 277.30
  • یورو قیمت خرید: 310.85 قیمت فروخت : 311.41
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 369.02 قیمت فروخت : 369.69
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.37 قیمت فروخت : 193.72
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.58 قیمت فروخت : 196.93
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.81 قیمت فروخت : 73.94
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.37 قیمت فروخت : 75.51
  • کویتی دینار قیمت خرید: 898.85 قیمت فروخت : 900.47
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار

مولانا کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شہداء کیخلاف بات نہیں کرنی چاہیے: رانا سکندر حیات

25 Oct 2026
25 Oct 2026

(لاہور نیوز) وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شہداء کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے۔

صوبائی وزیر سلمیٰ بٹ کےہمراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ مولانا کے شہداء سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہیں ، شہداء کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے کیا کیا اور صوبے کے عوام کی حفاظت کے لیے کس نے قربانیاں دیں۔

وزیر تعلیم پنجاب کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو آج اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شہداء کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے، خیبرپختونخوا کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ ان کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
سلمیٰ بٹ
دوسری جانب صوبائی وزیر سلمیٰ بٹ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی 13 سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے اور اُس کے دور میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔

سلمیٰ بٹ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کی قربانیوں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج نہ کسی کی خواہش تھی اور نہ ہی اسے سیاسی حل سمجھا گیا بلکہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج مجبوری کے تحت نافذ کیا گیا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے