(لاہور نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو سات برس مکمل ہو چکے ہیں، تاہم ان اقدامات سے نہ تنازعٔ کشمیر کی حیثیت متاثر ہوئی اور نہ ہی کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی میں کوئی کمی آئی۔
انہوں نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، جو عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جب تک اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہیں نکالا جاتا، تحریکِ آزادی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے اور مودی حکومت کا یہ اقدام دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاستی دہشت گردی، انسانی حقوق کی پامالی، لاقانونیت اور استحصال کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ سلامتی کونسل کے لیے بھی ایک کھلا چیلنج ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستانی عوام ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔
