(لاہور نیوز) صوبہ پنجاب میں وراثتی اراضی کے کیسز کی سماعت سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں لاہور سمیت صوبہ بھر میں سرکاری دفاتر کے علاوہ نجی مقامات پر روبرو سماعت پر پابندی عائد کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ریونیو افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ گھروں، ہسپتالوں یا کسی بھی نجی مقام پر وراثتی اراضی کے کیسز کی سماعت نہ کریں، اب ایسے تمام کیسز کی سماعت صرف عدالتی کمیشن کے روبرو ہی کی جائے گی، جبکہ فریقین کے سامنے پیش ہو کر سماعت کا حق برقرار رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب عدالتی کمیشن کا آن لائن ویب پورٹل گزشتہ دو ہفتوں سے بند ہونے کے باعث شدید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں، اس صورتحال کے نتیجے میں لاہور سمیت صوبہ بھر کے ہزاروں بیمار، ضعیف مرد و خواتین کے کیسز التوا کا شکار ہو گئے ہیں اور فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی مقامات پر سماعت پر پابندی مبینہ طور پر ملتان میں کروڑوں روپے کے فراڈ کیسز سامنے آنے کے بعد لگائی گئی، ملتان کے کمشنر نے ریونیو افسران کی مبینہ بے ضابطگیوں پر مشتمل رپورٹ بورڈ آف ریونیو پنجاب کو ارسال کی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بعض ریونیو افسران نے اپنے پاس ورڈ ماتحت عملے کو فراہم کیے، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کے کیسز کی سماعت غیر متعلقہ افراد کے ذریعے کیے جانے کی شکایات سامنے آئیں۔
مزید برآں، لاہور میں سینکڑوں کیسز صرف اس وجہ سے زیر التوا ہیں کہ فریقین کے روبرو سماعت ممکن نہیں ہو پا رہی، بورڈ آف ریونیو پنجاب کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ عدالتی کمیشن کے علاوہ نجی مقامات پر اس نوعیت کی سماعت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
