(محمد اشفاق) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کے احکامات سے 4 سال سے لاپتہ لڑکی کا سراغ مل گیا، لڑکی کو 2022 میں قتل کر دیا گیا، آئی جی پنجاب نے رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے سلمیٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کی، وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ 4 سال سے 17 سالہ لڑکی لاپتہ ہے، مقدمہ درج ہو چکا ہے لیکن ابھی تک بازیاب نہ ہو سکی لہٰذا عدالت مغوی کو بازیاب کرانے کا حکم دے۔
دوران سماعت عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب عبد الکریم خان نے رپورٹ پیش کر دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ لڑکی کو 2022 میں قتل کر دیا گیا، بچی جس گھر میں ملازمہ تھی اس مالک کے داماد کا ریمانڈ لیا گیا، سی ڈی آر سے پتہ چلا ملزم محسن سے بچی کا رابطہ تھا اب وہ ملزم محسن جسمانی ریمانڈ پر ہے اس نے بچی کو قتل کر کے نعش نالے میں پھینک دی تھی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا بچی کی نعش کسی تھانے والوں نے امانتاً دفنا دی تھی؟ اس کیس کو ثابت کرنے میں کتنے سال لگے؟ جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ اس کیس کو ٹریس کرنے میں چار سال لگے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ ایسے تفتیشی افسران کو کیوں کیس دیتے ہیں جو سالہا سال گزار دیتے ہیں، بچی اغوا کا کیس جب تھانے میں جاتا ہے تو آپ کے تفتیشی کا رویہ یہی ہوتا ہے، بچی خود گئی ہو گی آپ کو محنتی تفتیشی افسران تعینات کرنے کی ضرورت ہے، تفتیشی افسران کا ماضی کا ریکارڈ دیکھ کر تفتیش دیا کریں۔
دوران سماعت بچی کے والدین نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کا شکریہ ادا کیا۔
عدالت نے آئی جی پنجاب سے صوبے بھر سے بچی کے اغوا کے کیسز کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اغوا کیسز میں تفتیشی افسران کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
