(لاہور نیوز) صوبہ پنجاب میں پہلی مرتبہ پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کے نرخ کم ترین سطح پر رہنے کا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ آفس کے اعلامیے کے مطابق رمضان المبارک کے دوران سہولت بازاروں میں 4 کروڑ شہریوں نے مجموعی طور پر 3 کروڑ 69 لاکھ 30 ہزار کلوگرام اشیائے خورونوش خرید کر ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا، ان بازاروں میں اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں 40 فیصد تک کم نرخ پر اشیاء کی فراہمی ممکن بنائی گئی۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق عوام نے سہولت بازاروں سے خریداری کر کے ایک ماہ میں مجموعی طور پر ایک ارب 10 کروڑ روپے کی بچت کی، جبکہ ڈی سی ریٹ سے 18 فیصد کم قیمتوں پر خریداری کے نتیجے میں 73 کروڑ روپے کی اضافی بچت بھی ممکن ہوئی۔
پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کے زیر انتظام صوبہ بھر میں 49 مستقل سہولت بازار، 20 “سہولت آن دی گو” اور 11 عارضی بازاروں سمیت مجموعی طور پر 80 بازار قائم کئے گئے، جہاں 40 لاکھ سے زائد خریداروں کی آمد ریکارڈ کی گئی، ان بازاروں میں 1763 سٹالز قائم کئے گئے تھے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
رمضان کے دوران آٹے کی فروخت میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جہاں 29 لاکھ 30 ہزار کلوگرام آٹا کم نرخوں پر فروخت کیا گیا، آٹے کی قیمتوں میں ڈی سی ریٹ کے مقابلے میں 7.2 فیصد اور اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں 13.5 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے عوام کو مجموعی طور پر 50 کروڑ روپے سے زائد کی بچت ہوئی۔
ڈیجیٹل سہولیات کے حوالے سے بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی، جہاں موبائل ایپ کے ذریعے 37 ہزار سے زائد آرڈرز موصول ہوئے جبکہ فری ہوم ڈلیوری سروس کے ذریعے شہریوں نے بغیر اضافی چارجز اشیائے خورونوش حاصل کیں اور 13 کروڑ 11 لاکھ روپے کی بچت کی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سہولت بازاروں کے مؤثر نظام کے باعث اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کے تناسب میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، انہوں نے چیئرمین پی ایس بی اے افضل کھوکھر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ رمضان 2026 کا آپریشن پبلک سروس ڈلیوری کا ایک مثالی ماڈل بن چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کا عزم ہے کہ عوام کو سستی اور معیاری اشیائے خورونوش کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی، جبکہ پرائس کنٹرول کیلئے وزراء، معاونین خصوصی اور ضلعی انتظامیہ کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں۔
