
(لاہور نیوز) نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اپریل کے تیسرے ہفتے میں بنگلا دیش کا دورہ کریں گے، یہ 2012 کے بعد کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ اور دوطرفہ روابط کے حوالے سے ایک تاریخی پیشرفت ہے۔
حنا ربانی کھر بنگلا دیش کا دورہ کرنے والی آخری وزیر خارجہ تھیں، انہوں نے شیخ حسینہ کو ڈی 8 سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کیلئے یہ دورہ کیا تھا۔
شیخ حسینہ دور میں دونوں ملکوں کے روابط سرد مہری کا شکار رہے، روابط میں بہتری کی پاکستانی کوششوں کا شیخ حسینہ نے کبھی جواب نہ دیا۔
گزشتہ سال پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی معزولی سے دوطرفہ روابط میں قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی، اعلیٰ سطحی رابطے بحال ہوئے۔
بنگلا دیش نے پاکستانی برآمدات پر پابندیاں اٹھا لیں، تجارت میں اضافہ ہوا، سمندری راستے سے براہ راست تجارت شروع ہوئی، براہ راست پروازوں پر اتفاق ہوا، دوطرفہ دفاعی روابط بھی مضبوط ہوئے۔
جنوری میں بنگلا دیش کے اعلیٰ فوجی حکام نے پاکستان کا دورہ کیا جوکہ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد روابط میں ایک بڑی پیشرفت ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اسحاق ڈار 22 اپریل کو تین روزہ دورے پر بنگلا دیش پہنچیں گے جس میں وہ بنگلا دیش کے عبوری چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد یونس سے ملاقات کے علاوہ ہم منصب توحید حسین اور بنگلا دیشی کابینہ کے ارکان سے باضابطہ مذاکرات کریں گے، اس دوران متعدد ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔