(لاہورنیوز) امریکا اسرائیل اور ایران جنگ کی وجہ سے دنیا ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران جنگ کی وجہ سے تیل بہت مہنگا ہو گیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ٹرانسپورٹ، کھانے پینے کی اشیا اور روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے، اسی لئے پوری دنیا پریشان ہے۔جنگ کے بعد خام تیل کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل تک بھی گئی اور اس میں اتار چڑھاؤ جاری رہا، اس وقت قیمت 106 ڈالر فی بیرل ہے، اس کا سب سے زیادہ اثر ایشیا، یورپ اور افریقی ممالک میں ہوا جبکہ پٹرول کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 128 ڈالر ہو گئی۔
جنگ شروع ہونے کے وقت 28 فروری کو عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی جو اب بڑھ کر 238 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے، ڈیزل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ فلپائن میں 82 فیصد ہوا۔
اسی طرح نائجیریا میں 78 فیصد، آسٹریلیا میں 52 فیصد امریکا میں 41 فیصد اور سری لنکا میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان میں 22 فیصد اضافہ ہوا، بھارت،بنگلہ دیش اور سعودی عرب میں ڈیزل کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، روس، قطر اور جاپان میں معمولی اضافہ کیا گیا۔
بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں پٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کافی خراب ہے، وہاں راشننگ اور کوٹہ سسٹم نافذ ہے، لوگ لمبی لائنوں میں کھڑے ہیں، گیس سلنڈر کی بھی قلت ہے اور کئی جگہوں پر لڑائی جھگڑے کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
پاکستان میں صورتحال بہتر ہے، تیل دستیاب ہے اور حکومت نے قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ عام آدمی پر بوجھ کم ہو، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تقریباً 129 ارب روپے خود برداشت کیے۔
100 ارب روپے ترقیاتی بجٹ سے نکال کر عوامی سہولت کے لیے استعمال کیے گئے، مہنگا تیل خریدنے سے ہمارے ڈالر (زرمبادلہ) کم ہوتے ہیں اس لئے یہ ریلیف مستقل نہیں ہے کیونکہ پاکستان تیل درآمد کرتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، ان کا کہنا ہے عالمی مارکیٹ میں بڑھتی قیمتوں کا موازنہ کرنے کے لئے حکومت کو اپنے اخراجات پر قابو پانا چاہئے۔
حکومت کو عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنا چاہئے، اس کے ساتھ ساتھ خسارہ پورا کرنے کے لئے ڈیزل کی بجائے صرف پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جائے، جس کا اثر انفرادی طور پر پڑے گا، جبکہ ڈیزل کی قیمت بڑھانے سے مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا جس سے ہر شخص پریشان ہو گا۔
