اپ ڈیٹس
  • 205.00 انڈے فی درجن
  • 363.00 زندہ مرغی
  • 526.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.44 قیمت فروخت : 40.51
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.15 قیمت فروخت : 279.65
  • یورو قیمت خرید: 320.38 قیمت فروخت : 320.95
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 370.65 قیمت فروخت : 371.32
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 196.75 قیمت فروخت : 197.10
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 203.33 قیمت فروخت : 203.70
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.36 قیمت فروخت : 74.49
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.02 قیمت فروخت : 76.16
  • کویتی دینار قیمت خرید: 910.62 قیمت فروخت : 912.25
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 476400 دس گرام : 408400
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 436697 دس گرام : 374364
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7251 دس گرام : 6223
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

منی لانڈرنگ کیس: وزیراعظم اور حمزہ کی بریت کے خلاف درخواست خارج

24 Mar 2026
24 Mar 2026

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم  نے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کے خلاف درخواست پر سماعت کی، درخواست ایڈووکیٹ وشال احمد شاکر  نے سینئر قانون دان عامر سعید راں کی وساطت سے دائر کی۔

دوران سماعت وکیل  نے موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف نے وزیراعظم بننے کے 15 روز میں اپنے حق میں فیصلہ کروا لیا، فردِ جرم عائد ہونے سے قبل شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے بریت کی درخواستیں دائر کیں، سپیشل سینٹرل کورٹ کے جج  نے درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو بری کیا۔

وکیل  نے کہا کہ غیر قانونی فیصلے کے تحت سپیشل سینٹرل کورٹ کے جج  نے ملزمان کو ریلیف دیا، ملزمان کو طلب کئے جانے کے باوجود فردِ جرم سے پہلے ہی بری کر دیا گیا، پراسیکیوشن نے عدالت میں تقریباً 100 گواہ پیش کرنے تھے، اربوں روپے کے سنگین مقدمے میں پراسیکیوشن کو شواہد پیش کرنے کا موقع دیئے بغیر فیصلہ سنانا ناانصافی ہے، لہذا عدالت ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دے۔

دوران سماعت چیف جسٹس مس عالیہ نیلم  نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کس طرح متاثرہ فریق ہیں، کوئی بھی چار پانچ سالوں بعد آئے اور فیصلوں کو چیلنج کر دے، آپ سمجھتے ہیں ہم کوئی نیا قانون بنا دیں، یہ عوامی مفاد کا کیس نہیں ہے، رجسٹرار آفس  نے درخواست گزار کے متاثرہ فریق نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا تھا آپ اس مقدمے میں کیسے فریق ہیں؟

چیف جسٹس عالیہ نیلم  نے کہا کہ اس مقدمے کو اتنا عرصہ گزر گیا اور آپ آج عدالت آ گئے ہیں؟ عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے