(لاہور نیوز) پاکستان ریلوے میں رعایت کی نئی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، کوئی بھی ہو، کتنا ہی برا عہدہ ہو، اب 50 فیصد سے زیادہ رعایت نہیں ملے گی۔
پاکستان ریلوے نے ملک بھر میں جاری مالی دباؤ اور حکومتی کفایت شعاری مہم کے پیش نظر رعایتی پالیسی (کنسیشنز) کو یکساں اور منظم بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
چیف کمرشل مینیجر آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر برائے ریلوے کی ہدایات پر تمام رعایتوں پر زیادہ سے زیادہ 50 فیصد کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔
صحافیوں کو دی جانے والی رعایت جو پہلے 80 فیصد تک تھی وہ بھی اب کم کر کے 50 فیصد کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق سال میں 10 سنگل سفروں تک ہو گا، یہ سہولت تمام ٹرینوں اور کلاسز پر دستیاب ہو گی تاہم گرین لائن، پاک بزنس، شاہ حسین ایکسپریس اور آؤٹ سورسڈ ٹرینیں اس رعایت سے مستثنیٰ ہوں گی۔
مزید برآں، صحافیوں کے شریک حیات کو دی جانے والی 50 فیصد رعایت فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے، حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد تمام مستحق افراد کے ساتھ یکساں سلوک کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ امتیاز کا خاتمہ کرنا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ رعایتی پالیسی کی دیگر تمام شرائط و ضوابط بدستور برقرار رہیں گے، یہ فیصلے سی ای او/سینئر جنرل منیجر پاکستان ریلوے کی منظوری سے نافذ العمل کیے گئے ہیں۔
