اپ ڈیٹس
  • 205.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 533.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.53 قیمت فروخت : 40.60
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.20 قیمت فروخت : 279.70
  • یورو قیمت خرید: 319.75 قیمت فروخت : 320.32
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 370.28 قیمت فروخت : 370.94
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.80 قیمت فروخت : 196.15
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 203.67 قیمت فروخت : 205.03
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.41 قیمت فروخت : 74.54
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.01 قیمت فروخت : 76.15
  • کویتی دینار قیمت خرید: 911.08 قیمت فروخت : 912.71
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 525100 دس گرام : 450200
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 481338 دس گرام : 412680
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 8433 دس گرام : 7238
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد نہ ہو سکا، شہری مہنگائی سے پریشان

18 Mar 2026
18 Mar 2026

(لاہور نیوز) شہر میں سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد نہ ہو سکا، جس کے باعث شہریوں کو مہنگائی کے شدید بوجھ کا سامنا ہے۔ سرکاری قیمتوں اور مارکیٹ ریٹس میں واضح فرق دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔

مارکیٹ میں آلو سرکاری نرخ 18 روپے فی کلو کے مقابلے میں 30 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح پیاز 55 روپے کے بجائے 60 سے 80 روپے فی کلو تک دستیاب ہے، جبکہ ٹماٹر کی قیمت 60 روپے سے بڑھ کر 130 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔

دیگر سبزیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ لہسن 190 روپے کے بجائے 250 روپے، ادرک 270 روپے کے مقابلے میں 400 روپے، مٹر 38 روپے کے بجائے 90 روپے اور لیموں 60 روپے کے مقابلے میں 120 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

پھلوں کی قیمتوں میں بھی اسی طرح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انار 770 روپے کے بجائے 900 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ سفید انگور 420 روپے کے مقابلے میں 500 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ امرود 130 روپے کے بجائے 150 روپے فی کلو، مسمی 170 روپے کے مقابلے میں 250 روپے درجن اور کینو 209 روپے کے بجائے 350 روپے درجن میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح سیب سفید 390 روپے کے بجائے 450 روپے فی کلو جبکہ کیلے 207 روپے کے مقابلے میں 350 روپے درجن فروخت ہو رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے صرف کاغذی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں اور عملی طور پر ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے