اپ ڈیٹس
  • 200.00 انڈے فی درجن
  • 343.00 زندہ مرغی
  • 497.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.58 قیمت فروخت : 40.65
  • یورو قیمت خرید: 322.28 قیمت فروخت : 322.86
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 373.43 قیمت فروخت : 374.10
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 199.25 قیمت فروخت : 199.61
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 205.50 قیمت فروخت : 205.87
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.42 قیمت فروخت : 74.55
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 541200 دس گرام : 464000
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 496096 دس گرام : 425330
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 8901 دس گرام : 7639
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

ایل این جی کی عالمی سپلائی میں رکاوٹ سے پاکستان زیادہ متاثر نہیں ہوگا، وزیر توانائی

13 Mar 2026
13 Mar 2026

(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ایل این جی کی عالمی سپلائی میں رکاوٹ سے پاکستان زیادہ متاثر نہیں ہوگا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر توانائی نے کہا کہ پاکستان میں مقامی ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باعث ایل این جی کی عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے اثرات اب پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 74 فیصد بجلی مقامی ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2034 تک اس شرح کو 96 فیصد سے بھی زیادہ تک پہنچایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سولر توانائی کے تیزی سے فروغ، جوہری توانائی، پن بجلی اور مقامی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں نے ملک کو توانائی کے معاملے میں زیادہ خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

 

 

وفاقی وزیر توانائی کے مطابق اس وقت پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا تقریباً 10 فیصد حصہ ایل این جی پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر شام کے اوقات میں بجلی کی طلب پوری کرنے اور گرڈ کو مستحکم رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بدترین صورتحال میں کئی ماہ تک ایل این جی کی فراہمی معطل بھی ہو جائے تو پاکستان میں گرمیوں کے دوران شام کے اوقات میں صرف ایک سے دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو سکتی ہے تاہم اس کا زیادہ اثر صنعت اور زراعت پر نہیں پڑے گا۔

 

 

اویس لغاری کے مطابق پاکستان میں اس وقت بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت طلب سے زیادہ ہو چکی ہے کیونکہ ملک میں کوئلہ، ایل این جی اور جوہری توانائی کے کئی منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جبکہ چھتوں پر سولر پینلز کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے دن کے اوقات میں گرڈ پر بوجھ کم ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا تقریباً 55 فیصد حصہ صاف توانائی کے ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2034 تک اسے 90 فیصد سے زیادہ تک بڑھایا جائے۔

وفاقی وزیر توانائی کے مطابق پاکستان میں پن بجلی سالانہ تقریباً 40 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی پیدا کرتی ہے، جبکہ جوہری توانائی سے تقریباً 22 ٹیراواٹ گھنٹے اور مقامی کوئلے سے تقریباً 12 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔

 

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے