(ویب ڈیسک)معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان جویریہ سعود، جو اس وقت ایک نجی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کر رہی ہیں، سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، پروگرام کے دوران ایک ابتدائی فون کال میں ایک نوجوان لڑکی نے اپنے لباس کے حوالے سے سوال کیا، جس کے بعد گفتگو جذباتی رخ اختیار کر گئی، اس منظر کو دیکھنے کے بعد کئی صارفین نے اسے پہلے سے تیار شدہ یعنی اسکرپٹڈ قرار دیا اور پروگرام کی ساکھ پر سوالات اٹھائے۔
بعد ازاں مزید دو کالز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ایک کال میں ایک خاتون نے معروف اسکالر علی عبداللہ درانی سے دوسری شادی کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر ناظرین نے میزبان اور مہمان کے ردعمل کو غیر فطری قرار دیتے ہوئے کال کو بھی اسکرپٹڈ بتایا۔
شہزادی نامی خاتون نے ایک اور کال میں میزبان کے ڈیجیٹل مواد پر تنقید کی اور جذباتی ہو گئیں، تاہم اسے بھی عوام نے سنجیدہ لینے کے بجائے ڈرامائی منظر قرار دیا۔
ناظرین کا کہنا ہے کہ پروگرام میں نشر ہونے والی متعدد فون کالز قدرتی نہیں بلکہ پہلے سے تیار شدہ اور حد سے زیادہ ڈرامائی معلوم ہوتی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں اس نوعیت کے مناظر پیش کرنا نامناسب ہے اور اس کا مقصد صرف ریٹنگز میں اضافہ لگتا ہے۔ عوامی حلقوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ رمضان ٹرانسمیشنز میں سنجیدگی، سچائی اور اخلاقی اقدار کو ترجیح دی جائے۔
