(لاہور نیوز) یکم رمضان المبارک کے موقع پر پنجاب پولیس نے صوبہ بھر میں جامع سکیورٹی پلان جاری کر دیا ۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق لاہور سمیت پورے صوبے کی 32 ہزار سے زائد مساجد، 2 ہزار سے زائد امام بارگاہوں اور 500 سے زائد اقلیتی عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے 83 ہزار سے زائد پولیس افسران، اہلکار اور کمیونٹی رضاکار تعینات ہوں گے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں مساجد، امام بارگاہوں اور مارکیٹوں پر 18 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
حساس مساجد اور امام بارگاہوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے چیکنگ کی جائے گی، جبکہ سحر، افطار اور تراویح کے اوقات میں ڈولفن اسکواڈ، پیرو اور ایلیٹ فورس کی جانب سے عبادت گاہوں کے اطراف مؤثر پٹرولنگ یقینی بنائی جائے گی۔ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے اہم مقامات کی مسلسل نگرانی بھی کی جائے گی۔
آئی جی پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے اور مساجد، امام بارگاہوں و اہم مقامات کے اطراف سرچ اینڈ سویپ آپریشنز جاری رکھے جائیں۔ آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو سکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لینے اور مساجد کے منتظمین و امن کمیٹیوں سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آئی جی پنجاب نے علما کرام اور مشائخ عظام سے اپیل کی ہے کہ وہ ممبر و محراب سے بین المذاہب ہم آہنگی، بھائی چارے اور امن کا پیغام عام کریں۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں خواتین کو ہراسگی سے محفوظ رکھنے کے لیے لیڈی پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تعاون سے رمضان المبارک کا پُرامن انعقاد اور شرپسند عناصر کی سرکوبی یقینی بنائی جائے گی۔
