(لاہور نیوز) شہر میں پھلوں کی قیمتیں سرکاری ریٹ لسٹ کے برعکس بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں۔
پوش علاقوں میں درجہ اول پھل من مانے داموں فروخت ہو رہے ہیں جبکہ پسماندہ علاقوں میں مکس درجے کے پھل بھی عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکے ہیں، مہنگے پھل سستے نہ ہو سکے اور غریب کے لئے پھل خریدنا خواب بنتا جا رہا ہے۔
سرکاری نرخ نامے کے مطابق سیب کالا کولو پہاڑی 420 روپے فی کلو مقرر ہے مگر درجہ اول سیب 550 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، سیب کالا کولو میدانی 275 روپے مقرر ہونے کے باوجود 350 روپے تک بیچا جا رہا ہے، کیلا درجہ اول 230 روپے فی درجن سرکاری قیمت کے مقابلے میں 260 روپے تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ امرود 145 روپے کے بجائے 180 روپے فی کلو دستیاب ہے۔
ادھر کینو 220 روپے فی درجن مقرر ہے لیکن مارکیٹ میں 400 روپے درجن تک فروخت ہو رہا ہے، بیر 90 روپے کے بجائے 180 روپے فی کلو بیچا جا رہا ہے، پپیتا 340 روپے سرکاری نرخ کے برعکس 550 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔
اس کے علاوہ انار قندھاری 630 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود 800 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، کھجور اصیل 410 روپے کے بجائے 550 روپے فی کلو جبکہ کھجور ایرانی 495 روپے کے مقابلے میں 640 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔
شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور گرانفروشی کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
