(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں کائٹ فلائنگ ایکٹ پر عملدرآمد روکنے اور اسے غیر قانونی قرار دینے کے لیے دائر درخواستوں پر عدالت نے ڈی جی والڈ سٹی، ڈی جی پی ایچ اے اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو کل طلب کر لیا جبکہ ایس ایس پی آپریشنز اور ڈی سی لاہور کو نئی رپورٹس جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
دورانِ سماعت عدالت نے بسنت کے موقع پر فیک نیوز کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنانے کے لیے ڈی سی لاہور کو ایف آئی اے کے ساتھ میٹنگ کرنے کی ہدایت کی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی فیک نیوز کی پوسٹ وائرل ہو تو فوری کارروائی ہونی چاہیے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دو روز قبل بھی لاہور میں ڈور پھرنے کا واقعہ پیش آیا، سوال یہ ہے کہ اس وقت انتظامیہ کہاں تھی؟ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں ایسے واقعات کیوں نہیں رک رہے؟ عدالت نے ڈور پھرنے کے واقعات سے متعلق ایس ایس پی کو تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔
لیسکو حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور لیسکو ہیڈ کوارٹرز میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے، عدالت نے سوال کیا کہ ہائی رسک ایریاز میں صورتحال کب تک درست ہو گی؟ جس پر لیسکو حکام نے بتایا کہ دو روز کے اندر تمام خطرناک مقامات پر تاروں کی مرمت اور دیگر ضروری کام مکمل کر لیے جائیں گے۔
ڈی سی لاہور نے عدالت کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ بھی لیسکو کے ساتھ مل کر خطرناک مقامات کی نشاندہی کر رہی ہے، ڈی جی پی آر نے بتایا کہ بسنت کے حوالے سے وسیع آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے جس پر عدالت نے پوچھا کہ چوبیس گھنٹوں میں کتنی بار ٹی وی پر پیغامات نشر کیے جا رہے ہیں؟ ڈی جی پی آر کے مطابق یہ پیغام دن میں تقریباً 14 سے 15 مرتبہ نشر کیا جا رہا ہے۔
سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کو بتایا کہ 57 کلینک آن ویلز فیلڈ میں موجود ہوں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو گانوں پر پابندی کے حوالے سے رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے پتنگوں کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی اٹھایا جس پر عدالت نے ڈی سی لاہور سے وضاحت طلب کی، ڈی سی لاہور نے بتایا کہ پتنگوں کی طلب زیادہ جبکہ سپلائی کم تھی، اسی لیے دوسرے اضلاع سے پتنگیں منگوانے کی اجازت دی گئی ہے۔
