(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ تاحال نہ ہو سکا، وکلاء دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے۔
فروری میں رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر بار کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور وکلاء برادری دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار کے الیکشن کے حوالے سے پروفیشنل گروپ اور انڈیپینڈنٹ گروپ آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ پروفیشنل گروپ 14 فروری کو انتخابات کروانے کا حامی ہے جبکہ انڈیپینڈنٹ گروپ کا مؤقف ہے بار کے آئین کے مطابق بروقت الیکشن ناگزیر ہیں اور 28 فروری کی تاریخ مناسب ہے۔
پروفشنل گروپ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل 14 فروری کو الیکشن کروایا جائے تاکہ وکلاء کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنائی جا سکے.
اس معاملے پر صدر لاہور ہائیکورٹ بار کی زیر صدارت جنرل ہاؤس اجلاس منعقد ہوا، جس میں اکثریتی رائے سے 14 فروری کو انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا گیا نرل ہاؤس کے اس فیصلے کو انڈیپینڈنٹ گروپ کے رہنماؤں نے مسترد کر دیا۔
انڈیپینڈنٹ گروپ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک سے پہلے الیکشن کروانا وکلاء کے لیے مشکلات کا باعث بنے گا اور اس فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ بار کے آئین کے مطابق بروقت الیکشن ناگزیر ہیں اور 28 فروری کی تاریخ مناسب ہے۔
وکلاء حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں گروپوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا نہ ہوا تو الیکشن شیڈول مزید تنازع کا شکار ہو سکتا ہے جبکہ حتمی تاریخ کے تعین کے لیے مزید مشاورت متوقع ہے۔
لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات سے متعلق صورتحال پر وکلاء کی نظریں بار قیادت کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں، جس سے واضح ہو سکے گا کہ انتخابات مقررہ تاریخ پر ہوں گے یا نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
