اپ ڈیٹس
  • 337.00 انڈے فی درجن
  • 363.00 زندہ مرغی
  • 526.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.27 قیمت فروخت : 40.34
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.70 قیمت فروخت : 280.20
  • یورو قیمت خرید: 333.72 قیمت فروخت : 334.32
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 384.97 قیمت فروخت : 385.66
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.99 قیمت فروخت : 196.34
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 206.97 قیمت فروخت : 207.34
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.82 قیمت فروخت : 1.82
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.17 قیمت فروخت : 76.31
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 550500 دس گرام : 472000
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 504621 دس گرام : 432664
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 11730 دس گرام : 10068
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
شہرکی خبریں

جلال پورپیروالہ میں دریائے ستلج کی تباہ کاریاں، کئی علاقے زیرِ آب

26 Sep 2025
26 Sep 2025

(لاہور نیوز) دریائے ستلج کے سیلابی پانی نے جلال پور پیروالہ اور اس کے گرد و نواح میں تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں متعدد بستیاں اور علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں۔

سیلاب کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نوراجہ بھٹہ، چک 87 ایم، بستی ساوا، بستی لانگ سمیت دیگر علاقے پانی میں ڈوب چکے ہیں، ان علاقوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مقامی آبادی کی مشکلات میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔

سیلاب کی شدت کو روکنے کے لئے نوراجہ بھٹہ کے حفاظتی بند پر کام جاری ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک شگاف کو پُر نہیں کیا جا سکا ہے، یہ صورتحال مقامی لوگوں کے لئے مزید خطرات کا سبب بن رہی ہے، کیونکہ سیلابی پانی کا بہاؤ تیز ہو رہا ہے اور بند کی مضبوطی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سیلابی پانی کی وجہ سے متاثرہ علاقوں کے رابطہ راستے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث آمدورفت کے لئے کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، یہ عارضی حل ہے، مگر طویل مدت تک اس پر انحصار کرنا بے حد مشکل ہو گا۔

سیلاب میں ڈوب کر درآب پور کا نوجوان مرید کھوکھر اور تہمینہ نامی بچی جاں بحق ہو گئے ہیں، یہ جانی نقصان اس قدرتی آفات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کی شدت اور بے قابو ہونے کی صورت میں مزید جانی نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

سیلاب کی شدت کی وجہ سے موٹروے ایم فائیو چودہ دن سے بند ہے، جس سے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس بندش سے آمدورفت میں مشکلات بڑھ گئی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے۔

سیلاب متاثرین نے جلال پور کے مشرقی علاقوں سے سیلابی پانی نکالنے کا مطالبہ کیا ہے، متاثرہ علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں تاکہ ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکے اور مشکلات کا سامنا کم کیا جا سکے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے