(لاہور نیوز) دریائے ستلج کے سیلابی پانی نے جلال پور پیروالہ اور اس کے گرد و نواح میں تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں متعدد بستیاں اور علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں۔
سیلاب کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نوراجہ بھٹہ، چک 87 ایم، بستی ساوا، بستی لانگ سمیت دیگر علاقے پانی میں ڈوب چکے ہیں، ان علاقوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مقامی آبادی کی مشکلات میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔
سیلاب کی شدت کو روکنے کے لئے نوراجہ بھٹہ کے حفاظتی بند پر کام جاری ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک شگاف کو پُر نہیں کیا جا سکا ہے، یہ صورتحال مقامی لوگوں کے لئے مزید خطرات کا سبب بن رہی ہے، کیونکہ سیلابی پانی کا بہاؤ تیز ہو رہا ہے اور بند کی مضبوطی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سیلابی پانی کی وجہ سے متاثرہ علاقوں کے رابطہ راستے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث آمدورفت کے لئے کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، یہ عارضی حل ہے، مگر طویل مدت تک اس پر انحصار کرنا بے حد مشکل ہو گا۔
سیلاب میں ڈوب کر درآب پور کا نوجوان مرید کھوکھر اور تہمینہ نامی بچی جاں بحق ہو گئے ہیں، یہ جانی نقصان اس قدرتی آفات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کی شدت اور بے قابو ہونے کی صورت میں مزید جانی نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
سیلاب کی شدت کی وجہ سے موٹروے ایم فائیو چودہ دن سے بند ہے، جس سے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس بندش سے آمدورفت میں مشکلات بڑھ گئی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے۔
سیلاب متاثرین نے جلال پور کے مشرقی علاقوں سے سیلابی پانی نکالنے کا مطالبہ کیا ہے، متاثرہ علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں تاکہ ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکے اور مشکلات کا سامنا کم کیا جا سکے۔
