(لاہور نیوز) برف خانے لاہوریوں میں بیماریاں بانٹنے لگے۔ مضر صحت پانی اور زنگ آلود سانچوں میں تیار کردہ برف کی فروخت عام ہو گئی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے 42 کارخانوں کو سربمہر کر دیا۔
گرم موسم میں پانی ٹھنڈا کرنے کے لیے برف کی تیاری جاری ہے۔ لاہور میں برف خانوں کا کاروبارعروج پر پہنچ گیا مگر صفائی کے انتظامات نہ کئے گئے۔ صوبائی دارالحکومت میں موجود 60 برف خانے شہریوں میں بیماریاں بانٹنے لگے۔
حفاظتی اقدامات کے بغیر اور زنگ آلود سانچوں میں تیار شدہ برف کی فروخت ہو رہی ہے۔ برف خانوں میں سیکڑوں ملازمین بغیر میڈیکل سرٹیفکیٹ کے کام میں مصروف ہیں۔ کارخانوں میں پانی کا ٹیسٹ بھی نہیں ہوتا، متعدد فلٹریشن پلانٹس کا ریکارڈ غائب ہے۔ برف منتقل کرنے والی گاڑیاں بھی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔
شہر میں سلامت پورہ، چونگی امر سدھو، شاہ پور کانجراں، جیا موسی، کچا جیل روڈ پر برف خانے فعال ہیں۔ شاہدرہ، ملتان روڈ، رائیونڈ، برکی روڈ اور دلو خورد میں قائم آئس فیکٹریاں بھی دھڑلے سے چل رہی ہیں۔ قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ اور شالامار لنک روڈ کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی برف خانوں کی بہتات ہے۔
دوسری طرف ڈی جی فوڈ اتھارٹی رفاقت علی نسوانہ کہتے ہیں ہدایات پر عمل نہ کرنے پر 42 کارخانے سیل کیے گئے ہیں۔ زنگ آلود بلاکس استعمال کرنے پر بھی کئی یونٹس کی پروڈکشن بند کر دی گئی۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے مزید کہا کہ پانی کا سیمپل پاس ہونے پر ہی آئس فیکٹریوں کو کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ برف خانوں میں لگے تمام آلات منظور شدہ معیار کے مطابق لگانا انتہائی لازم ہے۔
