لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر کی منی لانڈرنگ کیس میں بریت کے خلاف درخواست مسترد کرنے کا تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواست گزار وشال شاکر کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ جاری کیا، درخواست گزار نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی بریت کو چیلنج کیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ایک پرائیویٹ شخص ہے اور کیس میں متاثرہ فریق نہیں، جبکہ بریت کو چیلنج کرنے کا اختیار وفاقی حکومت یا پبلک پراسیکیوٹر کے پاس ہوتا ہے، عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ درخواست گزار نے تین سال چار ماہ بعد بریت کے فیصلے کو چیلنج کیا۔
عدالت کے مطابق درخواست گزار کے وکیل بریت کے فیصلے میں کسی غیر قانونی پہلو کی نشاندہی نہیں کر سکے، ٹرائل کورٹ نے شہباز شریف کے خلاف ٹھوس شواہد نہ ہونے پر بریت کی درخواست منظور کی تھی اور قانون کے مطابق شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس مکمل ریکارڈ موجود تھا اور اسے ریکارڈ کا جائزہ لینے کا مکمل اختیار حاصل تھا، عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے اور اسے صرف اسی صورت کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جب وہ کمزور یا غیر قانونی ہو۔
علاوہ ازیں، عدالت نے رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے شہباز شریف کی بریت کے خلاف درخواست کو خارج کر دیا۔
