(لاہور نیوز) پنجاب میں ایڈز کے کیسز میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، پنجاب میں 45 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے 54 فیصد ایڈز مریض صرف پنجاب سے سامنے آئے جن میں سے 29 فیصد مریض علاج سے محروم ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں 84 ہزار سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں جن میں سے پنجاب میں 32 ہزار سے زائد مریض زیرِ علاج ہیں جبکہ 13 ہزار سے زائد مریض علاج نہیں کروا رہے ان میں 31 ہزار مرد، 9 ہزار سے زائد خواتین اور 2 ہزار 500 سے زائد خواجہ سرا ایڈز سے متاثر ہیں۔
رپورٹ میں بچوں میں ایڈز کے پھیلاؤ کا خطرناک انکشاف بھی ہوا ہے جن میں 14 سال سے کم عمر 1900 سے زائد بچے متاثر ہیں ایک ہزار سے زائد لڑکے اور 900 لڑکیاں ایڈز کا شکار ہیں اور پنجاب میں 37 فیصد متاثرہ بچے علاج سے محروم ہیں۔
پنجاب بھر میں لاہور میں سب سے زیادہ متاثرہیں 10 ہزار سے زائد کیسز، فیصل آباد میں 5 ہزار، ملتان میں 3 ہزار سے زائد مریض، سرگودھا، گجرات میں 2800 سے زائد اور ننکانہ صاحب میں 2 ہزار سے زائد افراد ایڈز کا شکار ہوئے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق پنجاب سمیت ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ ایڈز مریضوں کئ تعداد تین لاکھ سے زائد ہے، بڑے شہروں میں غیر رجسٹرڈ کلینکس، ہائی رسک گروپس اور تیزی سے بڑھتی آبادی وائرس کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر رہی ہے پنجاب میں بڑھتے کیسز کی بڑی وجوہات میں غیر محفوظ انجیکشنز، جگہ جگہ نشے کے پوائنٹ ، ناقص بلڈ سکریننگ، عطائی ڈاکٹرز اور صحت کے شعبے کی کمزور نگرانی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا سماجی بدنامی کے باعث بڑی تعداد میں افراد ٹیسٹنگ سے گریز کرتے ہیں جس سے وائرس خاموشی سے پھیل رہا ہے۔
