(لاہور نیوز) صوبہ پنجاب بھر کے قبرستانوں میں قبروں کے غیر متوازن اور بڑھتے ہوئے ریٹس ایک نئے مسئلے کی صورت اختیار کر گئے ہیں، جس نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور سمیت صوبے کے 41 اضلاع کی 256 تحصیلوں میں قائم 18 ہزار 637 قبرستانوں کی حالت زار تاحال بہتر نہ ہو سکی، جبکہ شہر خاموشاں اتھارٹی بھی قبرستانوں کی تزئین و آرائش میں خاطر خواہ بہتری لانے میں ناکام رہی ہے۔
مختلف ڈویژنز جن میں لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، ساہیوال، ڈی جی خان، راولپنڈی اور فیصل آباد شامل ہیں، وہاں قبروں کے نرخ 25 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک وصول کئے جا رہے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر سرکاری فیس کے مقابلے میں دو ہزار گنا زیادہ رقم طلب کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق شہر کے 83 فیصد قبرستانوں میں قبر کی قیمت 25 سے 40 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سرکاری قبرستانوں میں کچے کھاتے کی قبر کا سرکاری ریٹ تقریباً 10 ہزار 500 روپے مقرر ہے۔
پرائیویٹ قبرستانوں میں پسند کی جگہ پر قبر حاصل کرنے کیلئے 25 ہزار سے 50 ہزار روپے تک وصول کئے جا رہے ہیں، جبکہ گورکن کی اجرت بمعہ مواد سرکاری سطح پر 10 ہزار روپے اور نجی قبرستانوں میں 10 ہزار سے 50 ہزار روپے تک لی جا رہی ہے۔
مختلف قبرستانوں کے ریٹس بھی نمایاں طور پر مختلف ہیں، میانی صاحب قبرستان میں پکے کھاتے کی قبر کا ریٹ 10 ہزار 500 روپے ہے، جبکہ بی بی پاکدامن قبرستان میں یہی قیمت 50 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، اسی طرح شاہ جمال قبرستان میں 10 ہزار، میاں میر قبرستان میں 30 ہزار، اقبال ٹاؤن راوی بلاک شہنشاہ قبرستان میں 40 ہزار، ساندہ قبرستان میں 30 ہزار جبکہ کاہنہ قبرستان میں 10 ہزار روپے تک قبر کی قیمت بتائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر خاموشاں کمیٹی تاحال قبرستانوں میں قبروں کے نرخوں کا باقاعدہ تعین کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ بعض قبرستان کمیٹیوں پر سرکاری فیس کی مد میں کروڑوں روپے خردبرد کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
