اپ ڈیٹس
  • 216.00 انڈے فی درجن
  • 378.00 زندہ مرغی
  • 548.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • یورو قیمت خرید: 322.92 قیمت فروخت : 323.50
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 373.06 قیمت فروخت : 373.72
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 194.10 قیمت فروخت : 194.45
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 201.96 قیمت فروخت : 202.33
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.40 قیمت فروخت : 74.53
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.01 قیمت فروخت : 76.15
  • کویتی دینار قیمت خرید: 910.75 قیمت فروخت : 912.38
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 476800 دس گرام : 408800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 437063 دس گرام : 374731
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7589 دس گرام : 6514
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

گندم خریداری کا بڑا منصوبہ، 30 لاکھ میٹرک ٹن خریدنے کی تیاریاں

27 Mar 2026
27 Mar 2026

(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے نئی گندم کی فصل کی خریداری کیلئے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے باقاعدہ تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

حکومتی سکیم کے تحت 11 کمپنیاں اپریل کے پہلے ہفتے سے کسانوں سے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری کا عمل شروع کریں گی، ذرائع کے مطابق گندم خریداری مہم کا ابتدائی مرحلہ جنوبی پنجاب سے شروع کیا جائے گا، جس کے بعد خریدی گئی گندم کو حکومت پنجاب کے گوداموں میں ذخیرہ کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ فلور ملز اور ٹریڈرز کی ٹیکنیکل بڈ کے عمل میں 11 کمپنیوں کو پری کوالیفائی کیا گیا ہے، جبکہ محکمہ خوراک نے 5 ٹریڈرز کو اس مرحلے میں نااہل قرار دیا گیا، پری کوالیفائی ہونے والی کمپنیوں کی فنانشل بڈ آئندہ چند روز میں اوپن کی جائے گی۔

فنانشل بڈ کے مرحلے میں کمپنیاں گندم خریداری کی مقدار اور حکومتی مالی معاونت کے حوالے سے کم سے کم شرح کی پیشکش کریں گی، حکومت نے ان کمپنیوں کیلئے 25 لاکھ ٹن گندم خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے۔

پری کوالیفائی کمپنیوں میں بوٹا برادرز، علی عمران، حاجی سنز، چپل ٹریڈرز، ایل ڈی سی، این اینڈ ایم، رویل فلور، ذوالنورین، زاریہ اور ایس بی آر ایس شامل ہیں، جنہوں  نے ٹیکنیکل بڈ میں کامیابی حاصل کی۔

حکام کے مطابق یہ کمپنیاں کسانوں سے براہ راست کھیت سے تقریباً 3500 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدیں گی، جس سے کسانوں کو بہتر قیمت ملنے کی توقع ہے۔

مزید برآں، گرین پاکستان انیشی ایٹو(جی پی آئی) کے تحت بھی پنجاب بھر کے کسانوں سے 5 لاکھ ٹن گندم خریدی جائے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہو گا بلکہ صوبے میں گندم کے وافر ذخائر بھی یقینی بنائے جا سکیں گے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے