(لاہور نیوز) لاہور ہائی کورٹ میں ای چالان اور بھاری جرمانوں کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کی۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اب چالان سیف سٹی کیمروں کے ذریعے ہو رہے ہیں اور چالان کی ادائیگی میں تاخیر سے جرمانے کی رقم بڑھتی جاتی ہے۔ انہوں نے درخواست گزار وکیل سے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ چالان ادا کرنے کے بجائے قانون ہی بدل دیا جائے۔
درخواست گزار وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مقصد چالان ادا نہ کرنا نہیں بلکہ وہ چالان ادا کرنے کو تیار ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کتنے دن میں چالان ادا کریں گے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ایک دو دن میں ادائیگی کر دیں گے۔ اس موقع پر درخواست گزار نے چالانوں کی فہرست بھی عدالت میں پیش کر دی۔
درخواست گزار وکیل محمد داؤد کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹریفک قوانین کی بعض شقیں بنیادی حقوق سے متصادم ہیں، یکطرفہ بھاری جرمانے آئین اور شفاف ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہیں جبکہ مناسب سائن بورڈ، لائن مارکنگ اور آگاہی مہم کے بغیر جرمانے عائد کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت بھاری جرمانوں کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار وکیل کو مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 9 مارچ تک ملتوی کر دی۔
