(لاہور نیوز) گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کے لیے ایکسپورٹس انتہائی اہم ہیں، معاشی شرح نمو کو برآمدات پر مبنی کیا جائے۔
گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کے لیے ایکسپورٹس انتہائی اہم ہیں، معاشی شرح نمو کو برآمدات پر مبنی کیا جائے، ایکسپورٹس بڑھانے کے لیے معیشت کی رفتار کو بڑھایا جائے، ایکسپورٹس میں اضافے سے روزگار کے مواقع ملیں گے۔
گوہر اعجاز نے ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر گہری تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی معیشت کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، بڑھتا تجارتی خسارہ معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے ،جولائی سے فروری تک تجارتی خسارے میں 5 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے، گذشتہ برس کے مقابلے میں ایکسپورٹس 1 ارب 50 کروڑ ڈالرز کم ہو چکی ہیں، اس دوران پاکستان کی درآمدات 3 ارب 50 کروڑ ڈالرز بڑھ گئی ہیں۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ ایکسپورٹس بڑھنے سے قرضوں پر انحصار میں کمی ہو گی، موجودہ حالات میں پائیدار اور طویل المدتی معاشی استحکام اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی سلامتی کے لیے ایکسپورٹس اولین ترجیح قرار دی جائے۔
علاوہ ازیں گوہر اعجاز نے 14 فروری کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی معیشت کو چلانے کے لیے ٹیکسوں کی شرح کو کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ اس وقت گلاس ، سیمنٹ اور ٹائلز کی آدھی انڈسٹری بند پڑی ہوئی ہے، پاکستان میں ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے، پاکستان میں 500 ارب ڈالرز کی ہاؤسنگ انڈسٹری موجود ہے۔
گوہر اعجاز نے وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا کہ پراپرٹی کی خریدوفروخت پر ٹیکسز کو ختم کیا جائے، ہاؤسنگ انڈسٹری ملکی معیشت کو پانچ فیصد کی گروتھ دے سکتی ہے، اس سے ایک کروڑ لوگوں کو روزگار میسر آ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر اس سال 14 ٹریلین روپے کا ٹیکس اکٹھا کرے گا، یہ 12 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو ہے، پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 18 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
