اپ ڈیٹس
  • 225.00 انڈے فی درجن
  • 323.00 زندہ مرغی
  • 468.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.66 قیمت فروخت : 40.74
  • یورو قیمت خرید: 329.23 قیمت فروخت : 329.82
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.53 قیمت فروخت : 376.20
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 198.34 قیمت فروخت : 198.70
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 204.66 قیمت فروخت : 205.02
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.79 قیمت فروخت : 1.79
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.48 قیمت فروخت : 74.61
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.06 قیمت فروخت : 76.19
  • کویتی دینار قیمت خرید: 914.55 قیمت فروخت : 916.19
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 552300 دس گرام : 473500
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 506271 دس گرام : 434039
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 9808 دس گرام : 8418
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

وقت آ گیا دہشتگردوں کے سرپرست اور معاونین قیمت چکائیں: سینئر سکیورٹی حکام

02 Mar 2026
02 Mar 2026

(لاہور نیوز) سینئرسکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے دہشتگردوں کے سرپرست اور معاونین قیمت چکائیں۔

آپریشن غضب للحق کے حوالے سے سینئر سکیورٹی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ افغان طالبان کوفیصلہ کرنا ہو گا پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا دہشتگردگروہوں کے ساتھ؟ دہشت گردوں کی معاونت ترک کرنے کی یقین دہانی تک افغانستان میں کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں ، پاکستان کی کارروائیوں کا دورانیہ زمینی حقائق اور افغان حکومت کے اقدامات پر منحصر ہوگا، افغان طالبان حکومت دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دے کر علاقائی امن سبوتاژ کر رہی ہے، افغان طالبان حکومت بطور پراکسی ماسٹر کردار ادا کر رہی ہے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت اپنی بگڑی مذہبی سوچ کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دے رہی ہے، ان کی قیادت کا اصل مذہب صرف پیسہ ہے، وزارت اطلاعات آپریشن غضب للحق کی پیشرفت سے مسلسل آگاہ کر رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کیے ہوئے ہیں، پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ اہداف مسلط کی گئی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جائز دفاعی اہداف ہیں، افغان طالبان حکومت اور ان کے بھارتی سرپرست جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ ہر خبر کی تصدیق کریں، افغان طالبان کے سرکاری اکاؤنٹس قابل اعتبار نہیں، کارروائیوں سے مظلوم افغان برادریوں اور اقلیتوں کیجانب سے مثبت ردعمل ملا، ہمیں افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں،کارروائیاں خوارج اور ان کے حامیوں کے خلاف ہیں۔

اُنہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغانستان میں نظام کی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں یہ افغان عوام کا اختیار ہے، افغان عوام خوش ہیں کسی نے ان ظالم جنگجو سرداروں کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت کی، ہم نے 180 سے زائد چوکیوں کو تباہ کیا ، 30 سے زائد ایسی پوسٹوں پر قبضہ کیا جو اہم تھیں۔

سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ یہ وہ مقامات تھے جہاں سے دہشتگردوں کو لانچ پیڈ کے طور پر سہولت فراہم کی جا رہی تھی، پاکستان آپریشن غضب للحق کو ختم کرنے میں عجلت میں نہیں، وقت آ گیا ہے دہشتگردوں کے سرپرست اور معاونین قیمت چکائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں اندھا دھند اہداف کو نشانہ نہیں بنا رہا ،پاکستان دہشتگرد تنظیموں کے معاون ڈھانچے کو مخصوص طور پر نشانہ بنارہا ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے