(ویب ڈیسک) پاکستان سٹاک ایکسچینج نے آل شیئر انڈیکس کی شرعی سکریننگ پر نظرِثانی کرتے ہوئے کمپنیوں کے غیر شرعی قرضوں کی حد میں 4 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ حد 37 فیصد سے کم کرکے 33 فیصد مقرر کر دی گئی ہے، حکام کے مطابق غیر شرعی سرمایہ کاری کی حد بھی 33 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ شرعی انڈیکس کی سکریننگ میں یہ تبدیلیاں پاکستان کو 2027 تک ربا فری معیشت کی جانب لے جانے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہیں، ریگولیٹر کے مطابق ان اقدامات سے کیپیٹل مارکیٹ میں شفافیت اور شرعی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔
ایس ای سی پی کے اعلامیے کے مطابق شریعہ کمپلائنس انڈیکس میں شامل کمپنیوں کو تھری، فور اور فائیو سٹار ریٹنگ دی جائے گی، جبکہ اس انڈیکس کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔
ریگولیٹر نے نئی لسٹڈ کمپنیوں کی شریعہ انڈیکس میں عبوری شمولیت کا طریقہ کار بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، مزید برآں نان بینکنگ فنانس اور کیپیٹل مارکیٹ کو ربا فری بنانے کیلئے جامع اقدامات جاری ہیں۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسلامی انڈیکسز کی فہرست سہ ماہی بنیادوں پر اپ ڈیٹ کی جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو تازہ ترین اور مستند معلومات فراہم کی جاسکیں۔
