(لاہور نیوز) بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے گرفتار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر مقتولہ کے قانونی وارثان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے پولیس کو واسا اور سول انتظامیہ کی ممکنہ غفلت کے پہلو پر بھی تفتیش کا حکم دیا ہے۔
پولیس نے مقدمے میں گرفتار پانچ ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا۔ ملزمان پر دو افراد کو غیر ارادی طور پر قتل کرنے کا الزام ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق 25 سالہ سعدیہ صابر اور ان کی 10 ماہ کی بیٹی ردا فاطمہ مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ واقعہ جان بوجھ کر قتل تھا یا غفلت کے باعث پیش آیا، نیز یہ بھی معلوم کیا جا سکے کہ کنسٹرکشن سائٹ پر وقوعے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
دورانِ سماعت ملزم سلمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سلمان کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ معاوضہ ادا کرنے کو تیار ہیں، تاہم عدالت سے ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ابتدائی مرحلے پر ملزمان کے خلاف کارروائی ختم نہیں کی جا سکتی اور تفتیشی افسر کو مکمل اور گہرائی سے تحقیقات کا موقع دیا جاتا ہے۔ تحریری فیصلے میں تفتیشی افسر کو واسا اور سول انتظامیہ کی مشترکہ غفلت کے پہلو کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی۔
عدالت نے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ 4 فروری تک منظور کر لیا۔
