اپ ڈیٹس
  • 337.00 انڈے فی درجن
  • 348.00 زندہ مرغی
  • 504.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.24 قیمت فروخت : 40.31
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.70 قیمت فروخت : 280.20
  • یورو قیمت خرید: 332.02 قیمت فروخت : 332.61
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 382.29 قیمت فروخت : 382.98
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.47 قیمت فروخت : 193.82
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 204.49 قیمت فروخت : 204.86
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.82 قیمت فروخت : 1.82
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.63 قیمت فروخت : 74.77
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.22 قیمت فروخت : 76.35
  • کویتی دینار قیمت خرید: 916.61 قیمت فروخت : 918.25
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 522300 دس گرام : 447800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 478772 دس گرام : 410480
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 10826 دس گرام : 9291
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

سولر صارفین کے مسائل کم نہ ہوسکے، لیسکو پر ایکسپورٹ یونٹس غائب کرنے کا الزام

27 Jan 2026
27 Jan 2026

(لاہور نیوز) سولر صارفین کے مسائل میں کمی نہ آ سکی، لیسکو نے نیٹ میٹرنگ کے حامل سولر صارفین کے کروڑوں ایکسپورٹ یونٹس غائب کر دیے، جس کے باعث ہزاروں صارفین کے بجلی بل غیر معمولی حد تک بڑھ گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کنکشن رکھنے والے صارفین کی جانب سے پیدا کیے گئے ایکسپورٹ یونٹس کو بلوں کا حصہ نہیں بنایا گیا، جبکہ اس کے برعکس صارفین کے استعمال کیے گئے تمام یونٹس کا مکمل بل چارج کیا گیا۔ ایکسپورٹ یونٹس شامل نہ ہونے کی وجہ سے موسم سرما میں سولر صارفین کو ہزاروں روپے کے اضافی بل موصول ہوئے۔

سردیوں میں بھاری بھرکم بل آنے پر سولر صارفین شدید پریشانی کا شکار ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق لیسکو نے لائن لاسز اور بجلی چوری چھپانے کے لیے سولر صارفین کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کے اعلان کے بعد سولر صارفین کی مسلسل حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے گزشتہ دو ماہ سے خود ساختہ طور پر نئے نیٹ میٹرنگ کنکشنز اور معاہدے روک رکھے ہیں۔

سینکڑوں صارفین کے معاہدے مکمل ہونے اور ڈیمانڈ نوٹسز ادا کرنے کے باوجود انہیں تاحال نیٹ میٹرز فراہم نہیں کیے جا رہے۔ رواں ماہ سولر صارفین کو ایک اور جھٹکا اس وقت لگا جب بیچ 16 میں بھی سولر کے ایکسپورٹ یونٹس شامل نہیں کیے گئے۔

سولر صارفین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر معاملے کا نوٹس لے کر ایکسپورٹ یونٹس کو بلوں میں شامل کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے