(لاہور نیوز) صوبائی وزیر تعلیم کی میرٹ بیسڈ پالیسی کو محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے نظر انداز کئے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
میرٹ بیسڈ ہیڈز کا ٹیسٹ پاس کرنے کے باوجود درجنوں سینئر اساتذہ اپوائنٹمنٹ کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
میرٹ بیسڈ ہیڈز کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا، تاہم چار ماہ گزرنے کے باوجود بیشتر اساتذہ کو تاحال تعیناتی کے آرڈرز جاری نہیں کئے گئے اور نہ ہی انہیں چارج دیا جا سکا، متاثرہ اساتذہ کے مطابق انہوں نے وزیر تعلیم اور سیکرٹری ایجوکیشن کو متعدد درخواستیں دیں، مگر تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
متاثرہ او پی ایس ہیڈز میں ڈاکٹر محمد انس، محمد اظہر علی، طیب اقبال اور مقصود احمد طاہر شامل ہیں، اس کے علاوہ دیگر او پی ایس ہیڈز میں سجاد نواز، خدیجہ شبیر، آمنہ قمر، مریم سرور، ذوہیب خان نیازی اور تابندہ نعیم کے نام بھی شامل ہیں۔
میرٹ بیسڈ ہیڈز کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ٹیسٹ پاس کرنے والے اساتذہ کی اپوائنٹمنٹ کے آرڈرز فوری جاری کئے جائیں گے، تاہم چار ماہ گزرنے کے باوجود اس وعدے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
متاثرہ اساتذہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ میرٹ بیسڈ پالیسی کے مطابق فوری طور پر اپوائنٹمنٹ آرڈرز جاری کئے جائیں، انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ سیکرٹری ایجوکیشن اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے او پی ایس ہیڈز کی تعیناتیاں یقینی بنائیں تاکہ تعلیمی نظام میں میرٹ کا بول بالا ہو سکے۔
