اپ ڈیٹس
  • 230.00 انڈے فی درجن
  • 411.00 زندہ مرغی
  • 595.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.53 قیمت فروخت : 40.60
  • یورو قیمت خرید: 321.84 قیمت فروخت : 322.42
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 369.11 قیمت فروخت : 369.77
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 192.73 قیمت فروخت : 193.08
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 200.38 قیمت فروخت : 200.74
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.33 قیمت فروخت : 74.46
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.98 قیمت فروخت : 76.11
  • کویتی دینار قیمت خرید: 909.39 قیمت فروخت : 911.02
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 487300 دس گرام : 417800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 446688 دس گرام : 382981
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7519 دس گرام : 6453
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

حکومت کا بڑا فیصلہ: پاسکو ختم، 350 ارب مالیت کی نئی گندم کمپنی کی منظوری

05 Apr 2026
05 Apr 2026

(ویب ڈیسک) حکومت نے گندم کی خریداری اور ذخیرہ کے نظام میں بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک نئی کمپنی قائم کرنے کی تیاری مکمل کر لی، جس کا مقصد مالی بوجھ کم کرنا اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی کمپنی ’وہیٹ سٹاک مینجمنٹ کمپنی (WSMC)‘ کے نام سے کام کرے گی اور پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کی جگہ لے گی، جسے مرحلہ وار ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ نئی کمپنی پاسکو کے 527 ارب روپے سے زائد کے واجبات بھی اپنے ذمے لے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی کو سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر کر لیا گیا ہے اور اسے قومی سطح پر گندم کے ذخائر کو منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ اس کا مجاز سرمایہ 350 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ یہ حکومتی ضمانت کے تحت بینکوں سے طویل مدتی قرضہ بھی حاصل کر سکے گی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کے سیکریٹری کو کمپنی کا چیئرمین بنانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ بورڈ میں دیگر اہم سرکاری شخصیات بھی شامل ہوں گی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، صوبوں کو ادائیگی میں تاخیر اور انتظامی کمزوریوں جیسے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ اصلاحات پہلے ہی اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے منظور ہو چکی ہیں، جبکہ شہباز شریف بھی اس منصوبے کی منظوری دے چکے ہیں۔

حکام کو امید ہے کہ نئی کمپنی کے قیام سے نہ صرف گندم کے نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ مستقبل میں حکومتی قرضوں کے بوجھ میں بھی نمایاں کمی ممکن ہو سکے گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے