(لاہور نیوز) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومتِ پنجاب نے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس اقدام سے صوبائی خزانے پر بھاری مالی بوجھ پڑنے لگا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فری سفری سہولت کی مد میں حکومت کو یومیہ 2 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد جبکہ ماہانہ 85 کروڑ 62 لاکھ روپے سے زیادہ سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔ سب سے زیادہ مالی دباؤ لاہور پر ہے جہاں ماہانہ تقریباً 57 کروڑ 97 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔
لاہور میں اورنج لائن ٹرین، میٹرو بس، سپیڈو اور گرین الیکٹرک بسوں پر یومیہ 1 کروڑ 93 لاکھ روپے سے زائد سبسڈی دی جا رہی ہے۔ صرف اورنج لائن ٹرین پر روزانہ تقریباً 90 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں، جو سب سے زیادہ ہے۔ میٹرو بس پر 56 لاکھ، سپیڈو بسز پر 43 لاکھ سے زائد جبکہ گرین بسوں پر تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار روپے روزانہ خرچ ہو رہے ہیں۔
راولپنڈی میں میٹرو اور گرین بس سروس پر یومیہ 67 لاکھ روپے سے زائد بوجھ پڑ رہا ہے، جس میں میٹرو بس پر 60 لاکھ اور گرین بسوں پر 7 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ملتان میں میٹرو بس اور فیڈر روٹس پر یومیہ 25 لاکھ روپے سے زیادہ سبسڈی دی جا رہی ہے، جہاں میٹرو بس پر 20 لاکھ اور فیڈر روٹس پر تقریباً 5 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی میں ماہانہ 20 کروڑ 10 لاکھ جبکہ ملتان میں 7 کروڑ 54 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام وقتی ریلیف تو فراہم کرے گا، تاہم طویل مدت میں حکومتی خزانے پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
