(ویب ڈیسک) عالمی منڈی میں سونے کی مسلسل بڑھتی قیمت جمعرات کو اچانک نیچے آ گئی اور اس میں ایک فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی،ماہرین کے مطابق اس کمی کے اثرات پاکستان کے مقامی صرافہ بازاروں تک بھی پہنچنے کا امکان ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اچانک گراوٹ کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان ہے، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور آئندہ ہفتوں میں مزید سخت کارروائیوں کا اشارہ دیا۔ اس بیان کے بعد عالمی سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمت تقریباً 1.3 فیصد کم ہو کر 4694 ڈالر فی اونس تک آ گئی۔
علاوہ ازیں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زائد اضافہ اور امریکی ڈالر کی مضبوطی نے بھی سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھایا۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں یہ امید بھی ختم ہو گئی ہے کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا، جس کا اثر سونے کی طلب اور قیمت دونوں پر پڑا۔
یاد رہے کہ مارچ 2026 سونے کے لیے ایک مشکل مہینہ ثابت ہوا، جس دوران اس کی قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 11 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جو 2008 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ ہے۔
پاکستان میں بھی سونے کی قیمت میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز عالمی اضافے کے باعث فی تولہ قیمت تقریباً 4 لاکھ 94 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی، تاہم عالمی سطح پر کمی اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی مضبوطی کے پیش نظر آج مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 5 سے 7 ہزار روپے تک کم ہو سکتی ہے، جس کے بعد یہ 4 لاکھ 87 ہزار سے 4 لاکھ 89 ہزار روپے فی تولہ کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
