اپ ڈیٹس
  • 218.00 انڈے فی درجن
  • 393.00 زندہ مرغی
  • 569.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.34 قیمت فروخت : 40.41
  • یورو قیمت خرید: 322.11 قیمت فروخت : 322.69
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 372.35 قیمت فروخت : 373.01
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 192.72 قیمت فروخت : 193.07
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 201.45 قیمت فروخت : 201.81
  • کویتی دینار قیمت خرید: 910.31 قیمت فروخت : 911.94
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 476800 دس گرام : 408800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 437063 دس گرام : 374731
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7589 دس گرام : 6514
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
کھیل

لاہور ہائیکورٹ نے بابر اعظم کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

28 Mar 2026
28 Mar 2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائی کورٹ نے بابر اعظم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے نے بابر اعظم کی اندراج مقدمہ کے خلاف دائر درخواست منظور کرلی، بابر اعظم نے درخواست میں جسٹس آف پیس کے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جسٹس آف پیس نے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔

خاتون نے درخواست گزار بابر اعظم پر شادی کا جھانسہ دے کر تعلقات قائم کرنے کا الزام لگایا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بابر اعظم کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، درخواست گزار بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے۔

تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان طویل عرصے تک تعلقات رہے، خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ تعلقات تقریباً آٹھ سال تک جاری رہے ، خاتون کے مطابق اس دوران وہ 2015 میں حاملہ بھی ہوئی، خاتون نے الزام لگایا کہ بعد میں اس کا حمل ضائع کروا دیا گیا۔

فیصلہ میں مزید کہا گیا کہ خاتون کے مطابق درخواست گزار نے اس سے بڑی رقم بھی حاصل کی، خاتون کا مؤقف تھا کہ بعد میں درخواست گزار نے شادی سے انکار کر دیا، جسٹس آف پیس نے خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی فیصلہ کے مطابق درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے، عدالت نے مقدمہ کا ریکارڈ بھی تفصیل سے دیکھا، خاتون کے الزامات بظاہر قابلِ یقین نہیں، آٹھ سال تک خاموش رہنا غیر معمولی صورتحال ہے۔

عدالت کے مطابق اتنے طویل عرصے بعد الزام سامنے آنا سوالیہ نشان ہے، صرف شادی کے وعدے کا دعویٰ تاخیر کو جواز فراہم نہیں کرتا، ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، الزامات کی تائید کے لیے شواہد پیش نہیں کیے گئے، جسٹس آف پیس نے مناسب جانچ کے بغیر حکم جاری کیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جسٹس آف پیس کا مقدمہ درج کرنے کا حکم قانون کے مطابق نہیں تھا، جسٹس آف پیس کا حکم کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے