(لاہور نیوز) صوبہ پنجاب میں سرکاری سکولوں کو بجلی کے بھاری بلوں سے ریلیف دینے کیلئے اہم اقدامات شروع کر دیے گئے ، جس کے تحت سکولوں کے بجلی ٹیرف کو کمرشل سے گھریلو ٹیرف میں منتقل کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے حکومت اور محکمہ توانائی پنجاب سے باقاعدہ رابطہ کیا ہے تاکہ مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق سکولوں کو درپیش مالی مشکلات کے پیش نظر یہ ایک بڑا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ نان سیلری بجٹ کا بڑا حصہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے۔
محکمہ سکول ایجوکیشن ہر سال تقریباً 16 ارب روپے جاری کرتا ہے، تاہم اس کے باوجود سکولوں کو مالی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
دوسری جانب نجی تعلیمی اداروں نے بھی بجلی کے ٹیرف میں تبدیلی کا مطالبہ کر دیا ہے اور سرکاری سکولوں کے بعد وہ بھی ریلیف کے منتظر ہیں۔ پنجاب بھر میں 38 ہزار سے زائد سرکاری سکول جبکہ ایک لاکھ کے قریب نجی سکول فعال ہیں، جنہیں اس ممکنہ فیصلے سے خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹیرف میں تبدیلی کی منظوری مل جاتی ہے تو تعلیمی اداروں کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور یہ ریلیف بالآخر طلبہ اور والدین تک بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
