اپ ڈیٹس
  • 205.00 انڈے فی درجن
  • 353.00 زندہ مرغی
  • 511.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.44 قیمت فروخت : 40.51
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.15 قیمت فروخت : 279.65
  • یورو قیمت خرید: 320.38 قیمت فروخت : 320.95
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 370.65 قیمت فروخت : 371.32
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 196.75 قیمت فروخت : 197.10
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 203.33 قیمت فروخت : 203.70
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.36 قیمت فروخت : 74.49
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.02 قیمت فروخت : 76.16
  • کویتی دینار قیمت خرید: 910.62 قیمت فروخت : 912.25
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 508900 دس گرام : 436300
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 466488 دس گرام : 399939
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 8021 دس گرام : 6884
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
پنجاب گورنمنٹ

لاہورہیرٹیج ایریاز ریوائیول: سڑکوں کے پرانے نام اور شاہی گزرگاہیں بحال کرنے کی منظوری

19 Mar 2026
19 Mar 2026

(لاہور نیوز) مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت لاہور ہیرٹیج ایریاز ریوائیول سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کے تاریخی ورثے کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں لاہور کی سڑکوں اور گلیوں کے پرانے نام بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا، جبکہ یونیورسٹی کا درجہ پانے والے سرکاری کالجز کے ناموں سے "یونیورسٹی" کا لاحقہ ختم کرکے ان کے اصل نام بحال کرنے کی منظوری دی گئی۔ قدیمی اور تاریخی عمارتوں کی بحالی کے مختلف منصوبوں پر رپورٹ پیش کی گئی اور جاری پراجیکٹس پر پیشرفت کا تصویری جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس میں ٹولنٹن مارکیٹ کے عقب میں کانونٹ گارڈن بنانے اور مارکیٹ میں "ایوری تھنگ آرگینک کیفے" قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ کانونٹ گارڈن میں سیمی کورڈ ایریا اور شاپس بھی تعمیر کی جائیں گی، جبکہ بائیک اور کاروں کیلئے دو منزلہ انڈر گراؤنڈ پارکنگ بھی بنائی جائے گی۔

نیو میوزیم بلاک پراجیکٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس میں عالمی معیار کی گیلریز قائم کی جائیں گی، جن میں قدیمی اسلحہ، سکے، چائنیز اور سکھ گیلریاں شامل ہوں گی، جبکہ انٹرایکٹو سکرینز بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوں گی۔

اجلاس میں شاہ عالم گیٹ سے رنگ محل چوک تک راستے کو پیدل گزرگاہ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ لاہور کی آٹھ قدیمی گزرگاہوں کی بحالی کی منظوری دی گئی۔ بھاٹی، موری، موچی، شاہ عالم، یکی، مستی اور دلی گیٹ کے اندرونی شاہی راستوں کو تاریخی حالت میں بحال کیا جائے گا اور سیاحوں کیلئے الیکٹرک کارٹس چلائی جائیں گی۔ اکبری گیٹ میں ٹورسٹ انفارمیشن آفس بھی قائم کیا جائے گا۔

قدیمی شہر میں مریم زمانی مسجد سمیت دیگر تاریخی عمارتوں کی بحالی پر اتفاق کیا گیا، جبکہ لاہور قلعہ کی فصیل کو قدیمی حالت میں بحال کرنے کی منظوری دی گئی۔ منصوبے کے تحت ٹیکسالی گیٹ سے بھاٹی گیٹ تک فصیل فیز ون میں تعمیر کی جائے گی، جبکہ یکی گیٹ سے مستی گیٹ تک فیز ٹو میں کام کیا جائے گا۔

والڈ سٹی کے اطراف نکاسی آب کے قدیمی نظام کی بحالی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تاریخی عمارتوں کی صفائی اور دیکھ بھال کیلئے "ستھرا پنجاب" کے تحت خصوصی ونگ بنانے کی تجویز پیش کی گئی، جبکہ عمارتوں کے بیرونی حصوں کو یکساں قدیمی ڈیزائن میں بحال کرنے پر زور دیا گیا۔

شاہ عالمی چوک میں باؤلی باغ کو تجاوزات سے واگزار کرانے اور بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ نیلا گنبد سے ملحقہ ڈیوڑھی کو تاریخی طرز پر بحال کیا جائے گا اور وہاں سیاحوں کیلئے کیفے بھی قائم کیا جائے گا۔ نیلا گنبد میں انڈر گراؤنڈ پارکنگ منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ فرسٹ انڈیا بینک، ایوننگ ہال اور پاک ٹی ہاؤس کو بھی تاریخی شکل میں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اندرون لاہور میں ہنرمندوں کی شناخت سے منسوب 36 گلیوں پر رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ داتا دربار کی توسیع کے منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ توسیع کیلئے 18 کنال اراضی حاصل کی جائے گی، جس پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے متاثرین کو مارکیٹ ریٹس کے مطابق ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں موچی گیٹ، اکبری گیٹ، یکی گیٹ اور مستی گیٹ کی بحالی کے منصوبے بھی پیش کیے گئے اور تاریخی ورثے کے تحفظ کیلئے جامع اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے