اپ ڈیٹس
  • 200.00 انڈے فی درجن
  • 343.00 زندہ مرغی
  • 497.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.74 قیمت فروخت : 40.81
  • یورو قیمت خرید: 321.65 قیمت فروخت : 322.23
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 371.32 قیمت فروخت : 371.98
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.26 قیمت فروخت : 195.61
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 206.00 قیمت فروخت : 206.37
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.42 قیمت فروخت : 74.55
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 540800 دس گرام : 463700
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 495730 دس گرام : 425055
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 8841 دس گرام : 7588
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تفریح

مایا علی نے پٹرول کی قلت اور قیمت بڑھانے سے متعلق اہم سوال اٹھا دیا

10 Mar 2026
10 Mar 2026

(ویب ڈیسک) اداکارہ مایا علی نے پٹرول کی قلت اور حکومت کی طرف سے قیمت بڑھانے سے متعلق اہم سوال اٹھا دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے حکام اورعوام دونوں کو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے حالات پر غور کرنے کی اپیل کی۔

اداکارہ نے انسٹاگرام پر اپنے متعدد پیغامات میں لکھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ بعض اوقات معاشی یا سیاسی حالات کے باعث مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں اور اگر ملک جنگی صورتحال سے گزر رہا ہو تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ان لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا ضروری ہے جن کے گھروں کا نظام روزانہ کی کمائی سے چلتا ہے۔

مایا علی کے مطابق بہت سے افراد ایسے ہیں جن کے پاس صرف موٹر سائیکل ہوتی ہے اور وہ روزانہ کام کرکے ہی اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا براہ راست اثران لوگوں پر پڑتا ہے جو روزانہ سفر کرکے اپنی روزی کماتے ہیں۔

اداکارہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں عوام کسی حد تک ریلیف کی امید رکھتے ہیں کیونکہ بہت سے خاندان پہلے ہی بڑھتے اخراجات کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے لوگوں کی تنخواہیں یا یومیہ آمدنی اتنی نہیں کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بوجھ آسانی سے برداشت کر سکیں، جبکہ اکثر افراد کے لیے گھر بیٹھنا ممکن نہیں کیونکہ انہیں اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کام جاری رکھنا پڑتا ہے۔

ایک اور پیغام میں مایا علی نے حکومت کی جانب سے ایندھن کے ذخائر سے متعلق دی جانے والی وضاحت پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرحکومت یہ کہتی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر صرف چند دن کے لیے باقی ہیں تو پھر قیمتوں میں اچانک اضافہ اس مسئلے کو کیسے حل کرسکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پٹرول کی قلت ہے تو کیا قیمت بڑھانے سے اچانک سپلائی بھی بڑھ جائے گی؟

انہوں نے مزید کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی اور روزمرہ کے اخراجات سے پریشان ہیں اور ایسے مقدس مہینے میں لوگ مزید مالی دباؤ کے بجائے کچھ ریلیف کی امید رکھتے ہیں۔ اپنے پیغام کے اختتام پر اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ آخر عوام پر بوجھ کب تک بڑھایا جاتا رہے گا؟

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے