(لاہور نیوز) پاکستان میں آبی بحران شدت اختیار کر گیا، پانی کی دستیابی میں خطرناک حد تک کمی کا انکشاف ہوا ہے۔
پاکستان آبی دباؤ والے ملک سے آبی قلت والے ملک میں داخل ہو چکا ہے، سالانہ فی کس پانی کی دستیابی 1000 مکعب میٹر کی آبی قلت کی حد سے نیچے آ چکی ہے۔
فی کس دستیابی میں کمی اور پاکستان کے آبی قلت میں تبدیل ہونے کی وجہ آبادی میں اضافہ ہے، وزارت آبی وسائل نے رپورٹ قومی اسمبلی میں جمع کرا دی۔
رپورٹ کے مطابق 1951 میں فی کس پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر تھی، 2017 میں یہ کم ہو کر 1,102 مکعب میٹر رہ گئی۔
2023 میں فی کس پانی مزید کم ہو کر 948 مکعب میٹر تک پہنچ گیا، 2025 میں فی کس دستیابی صرف 899 مکعب میٹر رہ گئی، 1,000 مکعب میٹر سے کم سطح پانی کی قلت تصور کی جاتی ہے۔
2023 میں آبادی 241.49 ملین ریکارڈ کی گئی، 2025 میں آبادی بڑھ کر 254.79 ملین ہونے کی پیشگوئی کی گئی تھی، وفاقی حکومت نے 2030 تک قومی سطح پر نئے آبی ذخائر کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔
فی الوقت وفاقی حکومت عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف مراحل میں اٹھارہ چھوٹے، بڑے اور درمیانے ڈیم منصوبوں کی سرپرستی کر رہی ہے جن کی مجموعی لاگت 1،036.069 ارب روپے ہے۔
تکمیل کے بعد یہ منصوبے مجموعی طور پر تقریباً 8.2 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کریں گے، اضافی 346،447 ایکڑ اراضی کو زیر آبپاشی لائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق صرف دیامر بھاشا ڈیم ہی 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرے گا، انڈس بیسن آبپاشی نظام کے تحت زیر خدمت 45 ملین ایکڑ اراضی کے لیے آبپاشی کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
