(ویب ڈیسک) رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی روزہ داروں کی توجہ عبادات کے ساتھ ساتھ صحت مند غذا کی طرف بھی مبذول ہو جاتی ہے۔
ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ سحری میں درست انتخاب نہ صرف دن بھر توانائی برقرار رکھتا ہے بلکہ پیاس اور کمزوری سے بھی بچاتا ہے، ذیل میں اُن غذاؤں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن سے سحری کے وقت پرہیز بہتر سمجھا جاتا ہے۔
زیادہ نمک والی غذائیں
زیادہ نمک والی اشیاء جیسے چپس، اچار اور نمکین سنیکس دن کے وقت شدید پیاس کا باعث بن سکتی ہیں، ماہرین کا مشورہ ہے کہ سحری میں نمک کی مقدار کم رکھی جائے تاکہ جسم میں پانی کا توازن برقرار رہے۔
تلی ہوئی اور چکنائی سے بھرپور اشیاء
پراٹھا، پکوڑے اور دیگر تلی ہوئی غذائیں وقتی طور پر پیٹ بھر دیتی ہیں لیکن یہ معدے پر بوجھ ڈالتی ہیں اور سستی پیدا کرتی ہیں، چکنائی سے بھرپور کھانے ہاضمے کو سست کر دیتے ہیں جس سے روزے کے دوران بے چینی محسوس ہو سکتی ہے۔
میٹھی اور شوگر سے بھرپور غذائیں
زیادہ چینی والی اشیاء خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھاتی اور پھر اچانک گرا دیتی ہیں، جس سے کمزوری اور بھوک کا احساس بڑھ سکتا ہے، اس لئے سحری میں مٹھائیوں اور میٹھے مشروبات سے گریز کیا جائے۔
کیفین والے مشروبات
چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس میں موجود کیفین جسم میں پانی کی کمی کا سبب بن سکتی ہے، ماہرین کے مطابق سحری میں کیفین کا زیادہ استعمال دن بھر پیاس بڑھا سکتا ہے۔
سفید آٹے سے بنی اشیاء
سفید آٹے سے بنی روٹی اور نان جلد ہضم ہو جاتے ہیں اور زیادہ دیر تک پیٹ بھرا محسوس نہیں ہونے دیتے، بہتر ہے کہ ان کی جگہ ثابت اناج (براؤن بریڈ یا چپاتی) استعمال کی جائے۔
