(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں سرویلنس مزید بڑھانے اور کومبنگ آپریشن جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال سے متعلق معاملات پر بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں فورتھ شیڈول میں شامل افراد سمیت دیگر سرگرم افراد کی بھی کڑی مانیٹرنگ کا حکم دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اسرائیل ایران تنازعہ کے تناظر میں سرویلنس مزید بڑھانے کی ہدایت کی، صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم دیا، شاپنگ مالز، بڑی مارکیٹوں اور عوامی مقامات پر سکیورٹی سخت کرنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے تمام اضلاع میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم دیا اور مشکوک افراد کی سخت نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی، اجلاس میں داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
مریم نواز نے اہم تجارتی مراکز پر اضافی نفری تعینات کرنے کا حکم دیا اور حساس علاقوں میں سرچ اور کومبنگ آپریشنز تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے فوری رسپانس یقینی بنائی جائے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوران بریفنگ بتایا گیا کہ سکیورٹی خدشات موجود ہیں، جس کو مد نظر رکھتے ہوئے سکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی ہے، صوبہ بھر میں 7 مارچ تک دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا ہے، دفعہ 144 کا نفاذ دہشت گردی کے ممکنہ خطرات اور امن عامہ کو لاحق خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔
اجلاس میں غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا، احتجاجی مظاہروں اور سکیورٹی خدشات سمیت دیگر اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
سیکرٹری داخلہ نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب میں چار یا اس سے زائد افراد کے عوامی اجتماع اور اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد ہے، پنجاب سے اب تک 32 ہزار 729 افغانیوں سمیت غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے، 346 غیر قانونی مقیم افراد ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں، ڈی پورٹ ہونے والوں میں 12 ہزار 356 مرد، 6 ہزار 673 خواتین اور 13 ہزار 700 بچے شامل ہیں۔
دوران بریفنگ بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے، تمام اہم سپاٹ کی مکمل نگرانی جاری ہے، ریڈ زون اور حساس تنصیبات کی براہ راست سرویلنس جاری ہے، سوشل میڈیا پر ملکی سلامتی کے خلاف مواد شئیر کرنے پر مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔
