(لاہور نیوز) پنجاب پولیس میں سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک کے بڑھتے استعمال نے محکمانہ سطح پر تشویش پیدا کردی ہے۔
حکام کی جانب سے کی گئی جانچ پڑتال میں لاہور سمیت مختلف شہروں کے متعدد پولیس اہلکاروں کے ٹک ٹاک پر غیر ضروری اور غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد باقاعدہ ریکارڈ مرتب کرلیا گیا ہے۔
محکمانہ دستاویزات کے مطابق ٹک ٹاک پر سرگرم اہلکاروں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے اکاؤنٹس کے لنکس، ناموں اور بیلٹ نمبرز پر مشتمل مکمل ڈیٹا تیار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف لاہور پولیس کے 165 اہلکار ٹک ٹاک کے بے جا استعمال میں ملوث پائے گئے، جو کسی بھی شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے بعد سیالکوٹ دوسرے نمبر پر ہے جہاں 25 پولیس اہلکار ٹک ٹاکرز کے طور پر سامنے آئے۔ اسی طرح فیصل آباد اور ملتان میں 13، 13 جبکہ بہاولپور میں 8 اہلکار سوشل میڈیا کے غیر مناسب استعمال میں ملوث پائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں مختلف خصوصی یونٹس کے اہلکاروں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ رائٹ مینجمنٹ پولیس کے 18 اور ایلیٹ فورس کے 13 اہلکار ٹک ٹاک پر سرگرم پائے گئے، جبکہ پنجاب کانسٹیبلری کے 14 اور مختلف پولیس ٹریننگ کالجز کے 13 اہلکار بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیس ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے واضح پالیسی پہلے سے موجود ہے، جس میں پیشہ ورانہ حدود اور احتیاطی اصول متعین کیے گئے ہیں۔ متعلقہ افسران کے مطابق پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ ادارے کے وقار اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
