(لاہور نیوز) پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر خزانہ محسن لغاری نے کہا ہے کہ پارٹی سے بڑھ کر قومی مفاد ہے اور وہ ہر فیصلے میں ملک کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
لاہور میں دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کو انہوں نے خود تحریر نہیں کیا تھا اور جس بات کا قومی مفاد سے مطابقت نہ ہو وہ اس کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان کے مطابق اگر پارٹی مؤقف نیشنل انٹرسٹ سے ہم آہنگ ہوگا تو وہ ساتھ کھڑے ہوں گے، لیکن قومی مفاد کے خلاف کسی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔
محسن لغاری کا کہنا تھا کہ ریکارڈنگ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا درست نہیں اور ادھوری گفتگو کی بنیاد پر تاثر دینا نامناسب عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خط اس لیے فارورڈ نہیں کر سکے کیونکہ وہ اس پر مطمئن نہیں تھے اور ضمیر و ذمہ داری کے مطابق فیصلہ کرنا ان کی ترجیح ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور موجودہ حالات میں قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اگر داخلی تقسیم بڑھی تو بیرونی چیلنجز کا مقابلہ مشکل ہو جائے گا۔
خطے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان، ایران اور غزہ کی صورتحال محتاط حکمت عملی کی متقاضی ہے اور کشیدہ حالات میں داخلی استحکام اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق شفاف میڈیکل اپڈیٹ جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ زیرحراست افراد کی صحت پر ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
محسن لغاری کے مطابق سیاسی درجہ حرارت کم کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مکالمہ ہی پائیدار حل کی بنیاد ہے، اور قومی بیانیے میں برداشت و شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی وابستگی اپنی جگہ مگر ریاست سب سے مقدم ہے، اور اگر پارٹی قومی مفاد سے ہٹے گی تو وہ الگ ہو جائیں گے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے، اس لیے ذمہ دارانہ سیاست اور بیرونی دباؤ کے دوران اندرونی استحکام ناگزیر ہے، اور وہ ذاتی مفاد کے بجائے ملکی بہتری کو ترجیح دیتے ہیں۔
